احتساب قادیانیت جلد نمبر 59 |
|
ففکر بجہدک خمس عشرۃ لیلۃ فناد حسینا او ظفرّا او اصغرا مرزاغلام احمد قادیانی اپنے مخالفین کو اپنی مختلف تحریروں کے ذریعے خوب کوستے اور گالیاں تک بھی دیا کرتے تھے۔ چنانچہ اپنی کتاب انجام آتھم میں لکھتے ہیں: ’’اب ہم ان مولوی صاحبوں کے نام ذیل میں لکھتے ہیں جن میں سے بعض تو اس عاجز کو کافر بھی کہتے ہیں اور مفتری بھی اور بعض کافر کہنے سے تو سکوت اختیار کرتے ہیں۔مگر مفتری اور کذاب اور دجال نام رکھتے ہیں۔ بہرحال یہ تمام مکفرین اور مکذبین مباہلہ کے لئے بلائے گئے ہیں اور ان کے ساتھ وہ سجادہ نشین بھی ہیں جو مکفر یا مکذب ہیں۔ وہ لوگ جو مباہلہ کے لئے مخاطب کئے گئے ہیں یہ ہیں: مولوی نذیر حسین دہلوی، شیخ محمد حسین بٹالوی، مولوی رشید احمد گنگوہی، مولوی عبدالحق حقانی مفسر دہلوی،مولوی ثناء اﷲ امرتسری، مولوی عبدالجبار غزنوی، مولوی اصغر علی لاہوری، مولوی عبدالواجد غزنوی، مولوی عبدالحق غزنوی، مولوی عبداﷲ ٹونکی، حافظ عبدالمنان وزیرآبادی، مولوی دلدار علی الوری۔ یہ کل ۵۸نام ہیں جن میں مولانا روحی کا نام نمبر۱۹ پر ہے۔ اس کے بعد سجادہ نشینوں کے ۴۸نام ہیں جن میں ظہور الحسین صاحب گدی نشین بٹالہ، صادق علی صاحب گدی نشین دتر چھتر، مہرعلی شاہ سجادہ نشین گولڑہ بھی شامل ہیں۔ اس کے بعد ایک خط شروع ہوتا ہے جو (انجام آتھم ص۷۳تا۲۶۶) پر شائع ہوا۔ جو عربی میں ہے اور اس کے نیچے بین السطور فارسی ترجمہ کیاگیا ہے۔ اس خط کا عنوان یہ ہے: ’’المکتوب الیٰ علماء الہند ومشائخ ہذہ البلاد وغیرہا من البلاد الاسلامیہ‘‘ اس کے بعد ایک ہمزیہ قصیدہ ہے۔ اس خط میں ’’تسعۃ رہط من الاشرار‘‘ کے زیر عنوان بعض علماء کو برا بھلا کہاگیا ہے۔ جن میں سے چند کے نام یہ ہیں: ۱…الرسل بابا امرتسری (مولوی غلام رسول) ۲…مولوی اصغر علی لاہوری ۳…مولوی محمد حسین بٹالوی ۴…مولوی نذیر حسین ۵…مولوی عبدالحق دہلوی ۶…مولوی عبداﷲ ٹونکی ۷…مولوی احمد علی سہارنپوری ۸…مولوی سلطان الدین جے پوری ۹…مولوی محمد احسن امروہی ۱۰…مولوی رشید احمد گنگوہی ۱۱…شیخ اﷲ بخش تونسوی ۱۲…شیخ غلام نظام الدین تونسوی مولوی رسل بابا پر دو صفحے (انجام آتھم ص۲۳۶،۲۳۷)، مولوی اصغر علی پر تین صفحے (انجام آتھم ص۲۳۸ تا۲۴۰)، مولوی محمد حسین پر ساڑھے دس صفحے (انجام آتھم ص۲۴۱تا۲۵۱) اس کے بعد باقیوں پر ایک ایک یا دو دو سطریں دی گئی ہیں۔‘‘ (ملاحظہ ہو انجام آتھم ص۲۴۱تا۲۵۲)