احتساب قادیانیت جلد نمبر 59 |
|
کے دعاوی باطلہ کے متعلق میں آپ سے گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ حکیم صاحب نے جواب میں لکھا کہ چونکہ آپ میرے پیر کی توہین کرتے ہیں اس لئے میں آپ سے گفتگو نہیں کرنا چاہتا۔ اس کے بعد شاید ۱۹۱۵ء میں حکیم صاحب لاہور آئے۔ روحی صاحب کے ایک شاگرد نے کہا کہ حکیم نورالدین آئے ہوئے ہیں۔ آگر آپ ان سے گفتگو کرنا چاہیں تو میں جاکر دریافت کروں؟ مولوی صاحب نے کہا ہاں جاکر پوچھو۔ وہ گیا اور قاضی ظہورالدین اکمل مرزائی متوطن گولیکی سے جاکراس خواہش کا اظہارکیا۔ قاضی ظہورالدین کہنے لگے واقعی مولوی اصغر علی مناظرہ کرنا چاہتے ہیں؟ شاگرد نے کہا ہاں واقعی چاہتے ہیں۔ قاضی ظہورالدین نے حکیم صاحب سے اس کا ذکر کیا۔ انہوں نے فرمایا ہم کسی مولوی سے گفتگو کرنا نہیں چاہتے۔ اصغر علی ہو یا کوئی اور ۔ اس وقت بابو عبدالحق اکاؤنٹنٹ نے جو کئی سال تک مرزائی بلکہ مرزا کے خاص حواری رہ کر تائب ہوئے تھے۔ مرزاقادیانی کے رد میں ایک رسالہ چھپوایا تھا اور وہ شہر بھر میں مفت تقسیم کرارہے تھے۔‘‘ ۴… اسی طرح مولانا محمد عالم آسی امرتسری اپنی کتاب (الکاویہ علی الغاویہ ج۱ ص۸۴، ۸۵) بعنوان ’’بارھواں مقابلہ ۱۹۰۲ء جنگ غیب دانی‘‘ میں لکھتے ہیں۔ ’’جب مرزائیوں کو مدّ میں شکست فاش ہوئی تو مرزاقادیانی کو بڑا طیش آیا اور عربی نظم میں تک بندی لگانی شروع کر دی۔ فرط جوش غضب میں پانچ سو سے زیادہ شعر لکھ مارے۔ جن میں مولوی ثناء اﷲ صاحب کو دل کھول کر گالیاں دیں اور جب وہ بخار نکل گیا تو اپنے دعاوی کی رٹ لگانی شروع کر دی۔ اخیر میں جب اس سے فارغ ہوئے تو پیر صاحب اور سید علی حائری اور مولوی اصغر علی صاحب روحی وغیرہ کو کوسنا شروع کر دیا… یہ قصیدہ نام کو تو الہامیہ اور اعجازیہ ہے۔ مگر اس قدر شاعرانہ انداز سے گرا ہوا ہے کہ اگر کسی غلط شعرکاحوالہ دینا ہو تو اس قصیدے سے بڑھ کر کوئی مصالحہ موزوں نہ ہوگا۔ بایں ہمہ مرزاقادیانی نے اپنی ہمہ دانی کا یوں غرور دکھلایا تھا کہ لوگوں کو بڑی عجلت کے ساتھ ویسا ہی جواب لکھنے پر دعوت دی جس کا جواب مولوی اصغر علی صاحب روحی اور دیگر بزرگوں نے لکھا اور اخبارات میں شائع کیا اور عموماً اہل علم نے اس کو اس لئے نظرانداز کر دیا کہ غلط اشعار کا جواب کیا دیا جائے۔‘‘ پھر اسی کتاب میں آسی صاحب نے میرزا صاحب کے قصیدۂ اعجازیہ سے ۲۲اشعار نقل کئے ہیں اور ان کی غلطیاں نکالی ہیں۔ ان اشعار میں شعر نمبر۹ میں تین بزرگوں کا نام آتا ہے۔ یعنی مولوی محمد حسین بٹالوی، قاضی ظفر الدین مرحوم اور مولانا اصغر علی روحی مرحوم۔ وہ شعر یہ ہے ؎