احتساب قادیانیت جلد نمبر 59 |
|
اور مولوی صاحب سے کہا ایک اٹھا لیجئے۔ انہوںنے ایک روپیہ اٹھایا۔ پوچھا اس دوسرے کو کیوں نہیں اٹھایا؟ مولوی زین العابدین سے کچھ جواب نہ بن پڑا۔ مولانا اصغر علی ایک طرف بیٹھے تھے۔ مولوی زین العابدین سے کہنے لگے مولوی صاحب کہہ دیجئے کہ ارادۂ ازلی اس کے اٹھانے سے متعلق تھا۔ دوسرے سے متعلق نہیں تھا۔ یہی وجہ ترجیح ہے۔ حکیم نورالدین نے کہا بس صاحب یہ ٹھیک نہیں۔ یا یہ بولیں یا آپ خود گفتگو کر لیں۔ مولوی زین العابدین،روحی صاحب سے کہنے لگے اچھا آپ آکر گفتگو فرمائیے۔ اس مجلس میں فقیر جلال الدین مرحوم مجسٹریٹ بھی موجود تھے۔ وہ بولے ہاں مولوی صاحب آپ آئیے اور گفتگو فرمائیے۔ غرض مولانا روحی کو زبردستی ان کے مقابل کر دیا۔ اس سے پیشتر حکیم صاحب بہت لافیں مار چکے تھے کہ ہم نے مصر سے منطق کی ایک نئی کتاب منگوائی ہے۔ جس میں منطقیوں کی متعدد تھیوریاں غلط اور باطل ثابت کی گئی ہیں اور اس سلسلہ گفتگو میں وہ امام غزالیؒ اور امام رازیؒ پر بھی ہاتھ صاف کر گئے تھے۔ روحی صاحب نے سوال کیا کہ آپ نے منطق کوباطل کہا ہے۔ کیا ساری منطق باطل ہے یا اس کے کوئی خاص قواعد یا اس کا کوئی حصہ؟ حکیم نورالدین نے کہا یہ بتانا تو مشکل ہے کہ منطق کا کتنا حصہ باطل اور کتنا صحیح ہے۔ مولانا اصغر علی نے فرمایا کہ اگر یہ نہیں بتلا سکتے تو ممکن ہے کہ آپ اثنائے گفتگو میں کسی سوال کے جواب میں کہہ دیں کہ یہ غلط اصول پر مبنی ہے۔ میں اس کو نہیں مانتا۔ اس لئے جب تک یہ مسئلہ صاف نہ ہو جائے کہ آپ کون کون سے اصول مانتے ہیں اور کون کون سے نہیں مانتے۔ اس وقت تک گفتگو بیکار ہے۔ حکیم صاحب لاجواب ہوگئے اور سوچنے لگے۔ ان ایام میں مولانا روحی کی رگوں میں جوانی کا خون دوڑ رہاتھا۔ جب دیکھا کہ حکیم صاحب کے منہ پر بالکل مہر سکوت لگ گئی تو جوش میں آکر کہنے لگے۔ اسی برتے پر آپ نے امام غزالیؒ اور امام رازیؒ پر حملہ کر دیا تھا۔ یہی آپ کی استعداد ہے؟ آپ کو تو مڈل والے لڑکوں کے برابر بھی لیاقت نہیں۔ یہ سن کر مولوی محرم علی چشتی اور فقیر جلال الدین کہنے لگے۔ نہیں مولوی صاحب جانے دیجئے ایسا نہیں ہے۔ چونکہ نماز عصر کا وقت قریب تھا۔ یہ لوگ کہنے لگے اچھا کسی دوسرے موقع پر گفتگو ہوگی۔ مولانا روحی چلے آئے اور یہ خبر بجلی کی رو کی طرح شہر میں پھیل گئی کہ روحی صاحب نے حکیم نورالدین کو بچھاڑ دیا۔ پھردوسری مرتبہ حکیم نورالدین حویلی کابلی مل میں آکر اقامت پذیر ہوئے۔ صوفی غلام محی الدین وکیل انجمن حمایت اسلام لاہور اور مولوی زین العابدین مذکور روحی صاحب کے مکان پر گئے اور کہا کہ حکیم نورالدین آئے ہوئے ہیں۔ آپ چل کر مرزا کے دعاوی کے متعلق ان سے گفتگو کیجئے۔ روحی صاحب نے کہا: اغلب ہے کہ حکیم صاحب گفتگو پر راضی نہیں ہوں گے۔ مولانا روحی نے ان کے کہنے پر حکیم صاحب کو رقعہ لکھا کہ مرزا