احتساب قادیانیت جلد نمبر 59 |
|
پھر آگے چل کر لکھتے ہیں: ’’ایک مرتبہ انہوں نے مرزاکی بعض عربی کتب میں سے شرمناک قسم کی غلطیاں نکال کر مرزاقادیانی کو لکھ بھیجیں۔ مرزاقادیانی نے اخبار الحکم ۱۷؍اکتوبر ۱۹۰۳ء ص۵ قادیان میں یہ لکھ کر ان سے پیچھا چھڑایا کہ نہ میں عربی کا عالم ہوں اور نہ شاعر ہوں۔ ایک دفعہ انہوں نے مرزا کے رسالہ ’’حمامتہ البشریٰ‘‘ کی غلطیاں نکال کر مرزاقادیانی کے حواری خواجہ کمال الدین کو خفا کر دیا تھا۔‘‘ (ائمہ تلبیس ص۶۶۸، طبع ملتان) ۳… کتاب (رئیس قادیان ج۲ ص۵۵۵ تا ۵۵۸) مرتبہ ابوالقاسم رفیق دلاوری بعنوان باب ۵۸ میں ’’حکیم نورالدین سے مولانا اصغر علی روحی کی ایک علمی جھڑپ‘‘ حسب ذیل دلچسپ واقعہ درج ہے: ’’قادیانی صاحب سخن سازی اور پروپیگنڈا بازی کے فن میں تو طاق تھے۔ لیکن علمی استعداد سے ایک بڑی حد تک بے نصیب تھے۔ البتہ مولوی حکیم نورالدین اور مولوی محمد احسن امروہی مرزائیوں میں ذی علم اور صاحب استعداد ہستیاں مانی جاتی تھیں اور یہی وہ دو شہپر تھے جن کے سہارے الہامی صاحب اتنا زمانہ فضائے تعلّی میں پرواز کرتے رہے۔ پھر ان دونوں میں حکیم نورالدین کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ بلکہ اصل یہ ہے کہ وہی مرزائیت کی عمارت کے بانی ومؤسس تھے اورمرزاقادیانی تو محض آلۂ کار اور کٹھ پتلی کا حکم رکھتے تھے۔ جب حکیم صاحب پیچھے سے ڈوری کھینچتے تو یہ پتلی حرکت میں آجاتی۔ ایک مرتبہ بانی سلسلہ حکیم نورالدین لاہور تشریف لائے اور کشمیری دروازہ میں محرم علی چشتی کے مکان پر ٹھہرے۔ مولوی محرم علی سے حکیم صاحب کی پرانی دوستی تھی۔ ایک نہایت معمر طبیب نے جومہاراجہ جموں وکشمیر کی ملازمت میں حکیم نورالدین کے رفیق کار تھے۔ مجھے بتایا کہ حکیم نورالدین اور مولوی محرم علی ایک ساتھ جموں سے خارج کئے گئے تھے۔ جب حکیم صاحب لاہور آکرمولوی محرم علی چشتی کے مکان میں ٹھہرے تو مولانا اصغر علی روحی سابق پروفیسر اسلامیہ کالج لاہور ان کے دیکھنے کے لئے گئے۔ اس وقت مولانا اصغر علی کا عنفوان شباب تھا۔ ان کے جانے سے پیشتر مولوی زین العابدین مدرس عربی اسلامیہ ہائی سکول دروازہ شیرانوالہ لاہور جو مولوی غلام رسول ساکن قلعہ میاں سنگھ ضلع گوجرانوالہ کے اقرباء میں سے تھے۔ حکیم صاحب سے گفتگو کر رہے تھے۔ مولوی زین العابدین اچھے لسان اور مقرر نہیں تھے۔ ایک سوال کے جواب میں مولوی زین العابدین نے کہا کہ اس سے تو ترجیح بلا مرجح لازم آئے گی۔ حکیم نورالدین نے کہا کہ ترجیح بلامرجح تو محض منطقیوں کا ایک ڈھکوسلہ ہے۔ ترجیح بلا مرجح جائز ہے۔ مولوی زین العابدین نے پوچھا وہ کیسے؟ حکیم صاحب نے دو روپے جیب سے نکال کر ہاتھ پر رکھے