جمعہ اور عیدین کے مسائل و احکام |
|
ایّامِ تشریق میں عید الاضحیٰ کی نماز پڑھنا : تشریق کے تینوں دنوں میں سے پہلے اور دوسرے دن یعنی گیارہ اور بارہ ذی الحجہ کو عید الاضحیٰ کی نماز پڑھی جاسکتی ہے۔اگر کسی عذر کی وجہ سے عید کے پہلے دن نماز نہ پڑھی گئی ہو تو مکروہ بھی نہ ہوگا،اور اگر بلاعُذر پہلے دن نہ پڑھی گئی ہو تو دوسرے تیسرے دن تک مؤخر کرنا مکروہ ہے۔(الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ:7/323)سال بھر کے روزے کی نذر میں ایّامِ تشریق داخل ہوں گے یا نہیں : اگر کسی نے یوں نذر مانی کہ میں پورا سال روزہ رکھوں گا تو کیا ایّامِ تشریق بھی اُس نذر میں شامل ہوں گے یا نہیں ،اِس میں اختلاف ہے: احناف : داخل ہوں گے،لیکن اُن کی جگہ دوسرے ایّام میں روزہ رکھنا ضروری ہوگا۔ ائمہ ثلاثہ : ایّامِ تشریق کے روزے نذر میں شامل ہی نہیں ہوں گے،یعنی اُن کی قضاء بھی لازم نہیں ہوگی۔(الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ:7/323)(البحر الرائق:2/318)حجاج کرام کیلئے ایّامِ تشریق کی راتیں منی میں گزارنا ضروری ہے؟ احناف : حجاج کرام کیلئے منی میں ایّامِ تشریق کی راتیں گزار نا واجب نہیں ،لیکن سنّت ہے ، کیونکہ نبی کریمﷺنے حضرت عبد اللہ بن عباسکو مکہ مکرّمہ میں رات گزارنے کی رخصت دی تھی،اگر واجب ہوتا تو اِجازت مرحمت نہ فرماتے ،لہٰذا منی میں اگر رات نہ گزاری ہو تو کچھ لازم نہ ہو گا ،لیکن ترکِ سنّت کی وجہ سے یہ فعل بُرا ہے، درست نہیں ۔