احتساب قادیانیت جلد نمبر 59 |
|
لانا فی سوالٍ ذی صعابٍ فھلّی ذا سوالاً بالعقال ۲۳۱… کیونکہ ہم ایک سخت سوال کے اندر مبتلا ہیں۔ پس تو اس سوال کو معقولیت سے حل کر دے۔ قفی فینا الیٰ وقتٍ قلیلٍ وقولینا علیٰ وفق السوال ۲۳۲… تو تھوڑے وقت تک ہمارے اندر ٹھہر جا اور ہمارے ساتھ سوال کے مطابق بات چیت کر۔ فاحدیٰ من یراعات تہوّت الیٰ ارض وقامت فی مسال ۲۳۳… پس جگنوؤں میں سے ایک جگنو زمین کی طرف گری اور سوال گاہ میں کھڑی ہو گئی۔ فقلناہا کسوالٍ بعجزٍ اجیبینیہا عن سوال ۲۳۴… ہم نے سائلین کی طرح نیاز مندی سے اس کو کہا۔ اے جگنو! ہمیں سوال کا جواب دے۔ لماذا لا نراک فی نہارٍ وفی لیلٍ نراک من جوال ۲۳۵… کیا وجہ ہے کہ ہم تجھ کو دن کے اندر نہیں دیکھتے اور تجھے رات کو چمکداروں کے اندر دیکھتے ہیں۔ نراک فی لیالٍ ذات ضوئٍ وفی اضواء شمسٍ فی حجال ۲۳۶… ہم تجھ کو راتوں کے اندر چمکتا دیکھتے ہیں اور سورج کی روشنی کے اندر پردوں میں دیکھتے ہیں۔ علی الرجلین قامت فی حجاب وقالتنا بعجل وارتجال ۲۳۷… وہ جواب گاہ کے اندر دونوں پاؤں پر کھڑی ہوگئی اور اس نے بعجلت اور حاضر جوابی کے ساتھ ہم سے کہا۔ نعم انی ضوی فی لیالٍ ولٰکن فی نہارٍ لا اجالی ۲۳۸… ہاں! میں راتوں کے اندر چمکتی ہوں۔ لیکن میں دن کو نہیں چمکتی۔ لان الشمس یشرفی بضوء ی ونوری فی نہارٍ غیر جالی ۲۳۹… کیونکہ سورج میری روشنی کو فنا کر دیتا ہے اور میری روشنی دن کے اندر نہیں چمکتی۔ ایا اہل المریزا انظروہا اجابتنا بضوء اتٍ عقال ۲۴۰… اے مرزائیو! اسے دیکھو کہ اس نے اپنی عقلمند روشنیوں سے ہم کو جواب دیا ہے۔ وافشانا غلام ذو کفارٍ بعجب ثم غرٍ واختیال ۲۴۱… اور کافر غلام احمد نے عجب وغرور اور تکبر سے ہم پر ظاہر کر دیا ہے کہ بانی مرسل ایضاً نبی لدیٰ شمس النباء والرسال ۲۴۲… میں آفتاب نبوت ورسالت کے پاس رسول بھی ہوں اور نبی بھی۔