احتساب قادیانیت جلد نمبر 59 |
|
’’وانت تدمر‘‘ استعمال کیا گیا ہے۔ حالانکہ یہی جملہ دراصل ’’وانت تدمرین‘‘ ہونا چاہئے تھا۔ جس سے ثابت ہوا کہ شاہ صاحب اور ان کے شہر گولڑہ شریف کا ملعون ہونا غلط اور مرزائی بکواس ہے۔ ہاں اگر ارض کی بجائے ’’بلد‘‘ کا لفظ لکھا جاتا تو شعر ہذا لفظی غلطی سے بچ جاتا۔ لیکن شاہ صاحب کی کرامت وعظمت نے اسے اس طرف نہ آنے دیا اور صحیح شعر بطور ذیل تھا۔ فقلت لک الویلات یا بلد جولرٍ لعنت بملعون وانت تدمر رابعاً: یہ ہے کہ دراصل مرزاقادیانی اور اس کا شہر قادیان دونوں ہی ملعون اور راندۂ خدا ہیں۔ کیونکہ دونوں پر ایک کافر حکومت قائم ہے اور دار الحرب ان پر سایہ فگن ہے اور اس کے بالمقابل شاہ صاحب کا مزار شریف گولڑہ شریف میں واقع ہے جو دارالاسلام پاکستان کا ایک مقدس اور متبرک شہر مانا جاتا ہے۔ خامساً: یہ ہے کہ مرزاقادیانی نے اپنے چوتھے شعر کے اندر حضرت شاہ صاحب کو ’’صید الرویٰ‘‘ کہہ کر اپنی زندگی میں ہلاک ہونے والا ظاہر کیا ہے۔ لیکن اس کی بددعا کے خلاف خود مرزاقادیانی چھ سال کے اندر ہلاک ہوگیا اور شاہ صاحبؒ ہلاکت مرزا کے بعد چالیس سال تک بخیر وعافیت زندہ رہے اور صداقت کا ایک عظیم نشان ثابت ہوا۔ کیونکہ مرزاقادیانی نے زیر جواب کتاب کے اندر بالصراحت خود کہہ دیا ہے کہ: وان تضربن علی الصلات زجاجۃ فلا الصخر بل ان الزجاجۃ تکسر اگر تو پتھر پر شیشہ مارے گا تو پتھر نہیں بلکہ شیشہ ٹوٹے گا۔ (اعجاز احمدی ص۷۶، خزائن ج۱۹ ص۱۸۹) ان حالات میں حضرت شاہ صاحبؒ اسلام کی ایک مضبوط چٹان تھے اور مرزاقادیانی بذریعہ مخالفت دردین ان پر گر کر ہلاک ہوگیا اور شاہ صاحبؒ عرصہ دراز تک زندہ رہے اور مرزائیت پر ضربات لگاتے رہے۔ سادساً: یہ ہے کہ مرزاقادیانی بقول خود ’’خنزیر الفلا‘‘ (جنگل کا سور) اور اس کی والدہ ’’کلبۃ الاغیار‘‘ ثابت ہوتی ہے۔ جب کہ اس نے اپنے مخالفین کے بارے میں عموماً اور شاہ صاحبؒ وغیرہ کے متعلق خصوصاً کہا ہے کہ: ان العدیٰ صاروا خنازیر الفلا ونساء ہم من دونہن الاکلب بلاشبہ میرے دشمن جنگل کے سور بن گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بدتر ہیں۔ (نجم الہدیٰ ص۵۳، خزائن ج۱۴ ص۵۳)