احتساب قادیانیت جلد نمبر 59 |
|
(۲)’’اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے۔ ’’ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ (اعجاز احمدی ص ایضاً) یعنی وہ عزیز اور غالب خدا ہے۔ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ تمام ادیان باطلہ پر اس رسول کو فتح دے۔‘‘ اور مجھے حکم ہوا کہ ’’فاصدع بما تومر‘‘ یعنی جو تجھے حکم ہوتا ہے وہ کھول کر لوگوںکو سنا دے۔‘‘ (اعجاز احمدی ص۷، خزائن ج۱۹ ص۱۱۳) (۲)اور عالم میاں نے استفتائے کبیر میں لکھا ہے کہ سیدمحمد جونپوری نے جم غفیر کے سامنے دعویٰ کیا کہ حکم اﷲتعالیٰ کا اس بندہ کو ہوتا ہے کہ آیت ’’افمن کان علیٰ بینۃٍ من ربہ‘‘ آخر تک خاص تیری ذات کے حق میں ہے ہم نے، اور مراد لفظ میں سے ’’افمن کان‘‘ میں خاص ذات تیری ہے اور یہ بھی دعویٰ کیا فرمان حق تعالیٰ کا ہوتا ہے کہ آیت ’’ثم اورثنا الکتاب الذین اصطفینا من عبادنا‘‘ آخر تک تیری قوم کے حق میں ہے۔ (ہدیہ مہدویہ ص۱۱۹) میاں خوند میر داماد وجانشین شیخ جونپوری مکتوب ملتانی میں لکھتے ہیں کہ حق تعالیٰ کلام خویش خبرداد ثم ان علینا ببانہ (بلسان المہدی ص۱۱۸) (۳)’’اب دیکھو خدا نے میری وحی اور تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے مدار نجات ٹھہرایا۔‘‘ (اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵ حاشیہ) (۳)تصدیق مہدویت سید جونپوری کی فرض ہے اور انکار ان کی مہدویت کا کفر ہے۔ (ہدیہ مہدویہ ص۱۶،۱۷) (۴)’’ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ صاحب شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امرونہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہوگیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام ’’قل اللمؤمنین یغضوا من ابصارہم ویحفظوا فروجہم ذالک ازکی لہم‘‘ (اربعین نمبر۴ ص۶، ایضاً) (۴)عقیدہ شانزدہم یہ کہ (مہدویہ) شیخ محمد صاحب جونپوری کو نبی بلکہ رسول صاحب شریعت تازہ جانتے ہیں۔ (ہدیہ مہدویہ ص۲۳) (چنانچہ) شواہد کے تیرھویں باب میں لکھا ہے کہ مہدویت اور نبوت میں نام کا فرق ہے اور کام اور مقصود ایک ہے۔ (ہدویہ مہدویہ ص۲۴) (۵)’’انت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۲۶ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۱۷۰) ’’انت بمنزلتہ ولدی‘‘ (تذکرہ ص۵۲۶، طبع سوم) (۵)عقیدہ پنجم سید محمو جونپوری سوائے محمدa کے افضل ہیں، ابراہیم وموسیٰ وعیسیٰ ونوح وآدم اور تمام انبیاء اور مرسلین سے۔ (ہدیہ مہدویہ ص۱۷)