احتساب قادیانیت جلد نمبر 59 |
|
ٖنے آمنا وصدّقنا (ہم ایمان لائے اور تصدیق کی) بول کر جھٹ بیعت کر لی تاکہ یہ ٹوٹکا بھی ادا ہو جائے اور بولے کہ دو گواہ بس ہیں۔ (ہدیہ مہدویہ ص۳۷) شیخ محمد کا یہ پہلا دعویٰ مہدویت یا نبوت کا مکہ معظمہ حرم محترم میں سن ۹۰۱ھ میں ہوا ہے اور واپس آنے پر پھر کچھ دنوں کے بعد دوسرا دعویٰ مہدویت کا سن ۹۰۳ھ میں کیا اور تیسرا دعویٰ بڑے زور کا سن ۹۰۵ھ میں کیا۔ (ہدیہ مہدویہ ص۳۸) میں اس آخری دعویٰ کاحال اس طرح لکھا ہے: ’’چونکہ مدت سے یہ مریدین شیخ کے درپے تھے کہ دعویٰ مہدویت کا کرو اور باربار اس کے خواہان تھے اور شیخ ہرچند ٹالتے چلے جاتے تھے۔ یہ لوگ تقاضا نہیں چھوڑتے تھے۔ چنانچہ بپاس خاطر ان کے دوبار اس سے پہلے دعویٰ کیا تھا۔ لیکن بعد اس کے سکوت اختیار کیا تھا۔ اس پر چنداں اصرار نہ تھا کہ اب سب نے کمال اصرار کیا۔ شیخ بھی تیار ہوگئے اور فرمایا کہ مجھ کو اٹھارہ برس سے باربار حکم خداکا بلاواسطہ ہوتا ہے کہ دعویٰ کر۔ میں ٹالتا چلا جاتا ہوں۔ اب مجھ کو حکم ہوا ہے کہ اے سید محمد! دعویٰ مہدویت کہلانا ہوا۔ تو کہلا نہیں تو ظالموں میں کروں گا۔ اس واسطے میں بصحت عقل وحواس دعویٰ کرتا ہوں۔ ’’انامہدی مبین مراد اﷲ‘‘ اور اپنا چمڑا دونوں انگلیوں سے پکڑ کر کہا کہ جو کہ مہدویت اس ذات سے منکر ہوئے، وہ کافر ہے اور میں خدا سے بے واسطے احکام وغیرہ لیا کرتاہوں اور فرمان حق تعالیٰ کا ہوتا ہے کہ علم اوّلین اور آخری کا تجھ کو دیا اور بیان معنی قرآن اور کنجی خزانہ ایمان کی تجھ کو دی ہم نے۔ تجھے جو قبول کرے وہ مؤمن ہے اور تیرا جو منکر ہووئے وہ کافر ہے۔ اسی طرح بہت سی باتیں خدائے پاک کی طرف نسبت کیں۔ خوند میر اور تمام اصحاب کہ تین سو ساٹھ تھے۔ اپنا عین مقصود جان کر پکارے کہ اٰمنّا وصدّقنا ‘‘ اب ناظرین مرزاقادیانی کے اقوال اور جونپوری کے اقوال کا مقابلہ کر کے دیکھیں کہ کس قدر مشابہ ہیں۔ مرزاغلام احمد قادیانی شیخ محمد جونپوری (۱)’’پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شدومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسیٰ کے آمدثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا۔ جب بارہ برس گذر گئے تب وہ وقت آگیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی جائے۔ تب تواتر سے اس بارہ میں الہامات شروع ہوئے کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔‘‘ (اعجاز احمدی ص۷، خزائن ج۱۹ ص۱۱۳) (۱)’’اور (شیخ نے) فرمایا کہ مجھ کو اٹھارہ برس سے باربار حکم خداکا بلاواسطہ ہوتا ہے کہ دعویٰ کر۔ میں ٹالتا چلا جاتا ہوں۔ اب مجھ کو یہ حکم ہوا کہ اے سید محمد! دعویٰ مہدویت کہلانا ہو تو کہلا نہیں تو ظالموں میں کروں گا۔‘‘ (ہدیہ مہدویہ ص۳۸)