احتساب قادیانیت جلد نمبر 59 |
|
جائے۔ اس میں ایماندار کو چون وچرا کرنے کا کوئی موقع نہیں ہونا چاہئے۔ ہاں آیت وحدیث کا بروئے اصول عربیت موازنہ کر کے صحیح معنی کا استنباط کرنا ضروری ہے اور علیٰ ہذا اجماع کی صحت کا معیار جو علمائے اصول نے قرار دیا ہے، مدنظر رہنا چاہئے اور اگر مخالف کجروی کرنے لگے تو اسے مرکز اصول سے نہ ہلنے دینا چاہئے۔ کیونکہ یہ یقینا صحیح ہے کہ تمام اہل بدعت وہوا ہمیشہ اصول سے بھاگا کرتے ہیں اور اگر کہیں اصول ان کے موافق پڑتا ہے تو وہاں شیر کی طرح اہل حق کے مقابلہ کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ مثلاً یہ اصول کہ الفاظ ہمیشہ اپنے معانی حقیقت پر محمول ہوں گے۔ الاّ اس صورت میں کہ معنی حقیقی کے لینے سے کسی دیگر نص یا اجماع کی مخالفت لازم آئے یا صریح عقل کے رو سے کوئی محال لازم آتا ہو۔ کیونکہ اس صورت میں ضرورتاً ہمیں لفظ کو مجازی معنی پر محمول کرنا پڑے گا اور وہ معنی مجازی منجملہ ان اقسام مجاز کے ہوں گے۔ جن کی تفصیل کتب اصول میں مندرج ہے۔ مثلاً نزول مسیح کی حدیث میں مسیح علیہ السلام کے متعلق ’’یکسر الصلیب‘‘ (یعنی مسیح علیہ السلام صلیب کو توڑیں گے) وارد ہے۔ مگر قادیانی یہ معنی لیتا ہے۔ لفظ مسیح سے مسیح ابن مریم مراد نہیں۔ بلکہ مسیح بروزی مراد ہے۔ یعنی ایسا شخص جس میں مسیح علیہ السلام کے کمالات جلوہ گر ہوں گے۔ کسر صلیب سے مراد یہ ہے کہ وہ نصاریٰ کو دلائل کے رو سے مغلوب کرے گا۔ مگر جب یہ سوال کیا جائے کہ کسر صلیب کو حقیقی معنی پر محمول کرنے سے کون سا امر مانع ہے؟ دیکھو جب پیغمبرa نے مکہ فتح کیا تو بیت اﷲ کے اندر جس قدر بت تھے سب کو پاش پاش کرا دیا اور شرک کے تمام آثار مٹا دئیے۔ اسی طرح اگر مسیح علیہ السلام نازل ہو کر کفر کے آثار کو مٹائیں گے تو اس میں کون سی خرابی لازم آتی ہے۔ اگر کسر صلیب سے دلائل کے ساتھ مغلوب کرنا مراد ہے تو یہ کون سی نئی بات ہے؟ کیونکہ شروع اسلام سے آج تک علمائے امت دلائل قاطعہ کے ساتھ نصاریٰ کا رد لکھتے رہے ہیں اور اس قدر لکھا ہے کہ اب نہ تو کوئی نیا اعتراض پیش ہوتا ہے اور نہ اس کا کوئی شخص نیا جواب دیتا ہے۔ نصاریٰ کے اعتراضات اسلام وبائی اسلام کے برخلاف مشہور ومعروف ہیں اور ان کے جوابات اظہر من الشمس ہیں۔ چنانچہ اہل علم خوب واقف ہیں کہ پادری لوگ ہمیشہ انہیں چند ایک چبائے ہوئے مضمون کو باربار چبایا کرتے ہیں۔ ہم نے آج تک کوئی نیا اعتراض نہیں سنا جس کو بزرگان سلف نے نہایت زور کے ساتھ رد نہ کر دیا ہو اور موجودہ صدی کے علماء میں کئی ایک بزرگواروں نے عیسائیوں کا ایسا ناک میں دم بندکیا ہے کہ بجز گریز کے عیسائیوں کو کوئی صورت نظر نہیں آئی۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی کتاب ’’الجواب الصحیح لمن بدّل دین