حصن حصین مترجم اردو - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
نہیں کیا تو یہ (غفلت) اس کے لیے حسرت و حرمان [محرومی] کا موجب ہوگی اور جو شخص بھی اپنے بسترپر لیٹا اور اُس نے اللہ کا ذکر نہیں کیا تو یہ (غفلت) اُس کے لیے حسرت و حرمان کا موجب ہوگی۔3 ۲۰۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ کو اُس کا نام لے کر آواز دیتا ہے کہ اے فلاں (پہاڑ) کیا تیرے پاس سے کوئی ایسا آدمی گذرا ہے جس نے (گذرتے وقت) اللہ کا ذکر کیا ہو؟ تو جب وہ (جواب میں) کہتا ہے ’’ہاں‘‘ تو وہ خوش ہوتا ہے (اور اس کو) مبارکباد دیتا ہے۔4 آخر حدیث تک۔ ۲۱۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ اللہ کے نزدیک بندے وہ ہیں جو اللہ کے ذکر کے لیے سورج، چاند،ستاروں اور سایوں کی دیکھ بھال رکھتے ہیں (اور ہر وقت اور ہر موقع کے مناسب اللہ کا ذکر کرتے ہیں)۔ ۲۲۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ (قیامت کے دن) جنت والے کسی چیز پر افسوس نہ کریں گے بجز اُس ساعت کے جو اُن پر گزر گئی اور اس میں انہوں نے اللہ کا ذکر نہیں کیا (کہ کاش اس ساعت میں بھی ہم اللہ کا ذکر کرتے اور اس کا بھی اجر و ثواب پاتے)۔1 ۲۳۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ تم اتنی کثرت سے اللہ کا ذکر کیا کرو کہ لوگ تم کو دیوانہ کہنے لگیں۔2 ۲۴۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہﷺ صحابہ کو حکم فرمایا کرتے تھے کہ وہ تکبیر (اَللّٰہُ اَکْبَرُ)، تقدیس (سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ) اور تہلیل (لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ) کی تعداد کا خیال رکھا کریں اور انہیں انگلیوں پر شمار کیا کریں، فرمایا اس لیے کہ قیامت کے دن اِن انگلیوں سے دریافت کیا جائے گا اور (انہیں قوَّتِ گویائی دے کر) بلوایا جائے گا (اور وہ بتلائیں گی کہ کتنی تعداد میں تکبیر و تقدیس و تہلیل کی تھی)۔3