حصن حصین مترجم اردو - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
کافروں سے جنگ کرنے کے لیے لشکر یا فوجی دستہ بھیجنے کے وقت کے آداب اور دعائیں ۱۔ جب کسی (سردار) کو کسی لشکر یا فوجی دستہ کا امیر (سپہ سالار) بنائے (یا حکومت وقت نے بنایا ہو) تو (اول) اس کو خود اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی اور (پھر) اپنے ماتحت مسلمان (سپاہیوں) کے ساتھ بھلائی (اور حسن سلوک) سے پیش آنے کی وصیت کرے، پھر کہے: اُغْزُوْا بِسْمِ اللّٰہِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، قَاتِلُوْا مَنْ کَفَرَ بِاللّٰہِ، اُغْزُوْا وَلَا تَغُلُّوْا وَلَا تَغْدُرُوْا وَلَا تَمْثِلُوْا وَلَا تَقْتُلُوْا وَلِیْدًا۔4 (ابوداؤد، رقم: ۲۶۱۳) اللہ کا نام لے کر اللہ کی راہ میں جنگ کرو، جو بھی اللہ (کے معبود ہونے) کا انکار کرے اس سے جہاد کرو، اور (مال غنیمت میں) خیانت مت کرو، (کسی سے) عہد شکنی نہ کرو، کسی کے ناک کان مت کاٹو (اور صورت نہ بگاڑو) اور کسی بچہ کو قتل مت کرنا۔ فائدہ: حدیث شریف میںآیا ہے کہ رسول اللہﷺ جب کسی صحابی کو کسی لشکر یا فوجی دستہ کا امیر (سپہ سالار) بناکر بھیجتے تو اسی طرح وصیت اور دعا فرماتے اور یہی ہدایات دیا کرتے تھے۔ ۲۔ یا یہ کہے: اِنْطَلِقُوْا بِسْمِ اللّٰہِ وَبِاللّٰہِ وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ، وَلَا تَقْتُلُوْا شَیْخًا فَانِیًا وَّلَا طِفْلًا وَّلَا صَغِیْرًا وَّلَا امْرَأَۃً وَّلَا تَغُلُّوْا وَضُمُّوْا غَنَائِمَکُمْ وَاَصْلِحُوْ وَاَحْسِنُوْا اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۔1 جائو اللہ کا نام لے کر، اور اللہ کی مدد کے ساتھ، اور رسول اللہ کے دین پر (قائم رہو)، کسی بوڑھے ناکارہ آدمی کو قتل مت کرو اور شیر خوار بچہ، کم سن لڑکے اور عورت کو بھی قتل نہ کرو۔ مالِ غنیمت (یعنی لوٹ کے مال) میں خیانت نہ کرو (بلکہ) لوٹ کا تمام مال ایک جگہ جمع کردو (اور تقسیم کے بعد اپنا حصہ لو) اور باہمی معاملات درست رکھو اور (ایک دوسرے کے ساتھ) اچھا سلوک کرو۔ بے شک اللہ تعالیٰ اچھا سلوک کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ فائدہ: حدیث شریف میںآیاہے کہ جب رسول اللہﷺ کسی کو امیرِ لشکر بناتے اور لشکر روانہ کرتے تو یہی وصیت کرتے اور دعائیں دیتے۔2