حصن حصین مترجم اردو - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
۲۵۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے عورتوں سے خطاب کرکے فرمایا: تم تسبیح (سُبْحَانَ اللّٰہِ)، تقدیس (سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ) اور تہلیل (لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ) کو اپنے اوپر لازم کرلو اور (کبھی) ان سے غفلت نہ کرو کہ تم اللہ کی رحمت سے فراموش (محروم) کردی جائو۔ ۲۶۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ میںنے رسول اللہﷺکو سیدھے ہاتھ کی انگلیوں پر تسبیح پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔4 ۲۷۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ مجھے صبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک اللہ کا ذکر کرنے والے لوگوںکے ساتھ بیٹھنا اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں حضرت اسمٰعیل ( ؑ ) کی نسل کے چار غلاموں کو آزاد کردوں، اور (اسی طرح) میں ان لوگوں کے ساتھ بیٹھوں5 جو عصر کی نماز کے بعد سے سورج ڈوبنے تک اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں، یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں چار غلام (اولاد اسماعیل) کے آزاد کروں۔1 ۲۸۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: تنہا سفر کرنے والے سبقت [آگے بڑھ جانا] لے گئے۔ صحابہ نے عرض کیا: (یارسول اللہ) یہ تنہا سفر کرنے والے کون لوگ ہیں؟ آپ نے فرمایا: کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور عورتیں۔2 اسی روایت کے دوسرے الفاظ میں ہے: اللہ کے ذکر کے شیدائی۔ یہ اللہ کا ذکر اُن کے (گناہوںکے) بوجھ ہلکے کرتا رہتا ہے۔ چنانچہ وہ قیامت کے دن (اللہ کے دربار میں) ہلکے پھلکے ہوکر آئیںگے۔3 ۲۹۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے بتلایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ بن زکریا ( ؑ ) کو پانچ باتوں کا حکم دیا کہ وہ خود بھی ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی حکم دیں کہ وہ بھی ان پر عمل کریں۔ (راوی نے) پوری حدیث بیان کی، یہاں تک کہ حضرت یحییٰ ؑ نے کہا کہ میں تم کو حکم دیتا ہوں کہ تم (کثرت سے)اللہ کا ذکر کیاکرو، اِس لیے