حصن حصین مترجم اردو - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
النَّبَاتِ۔ اے اللہ! ہمارے پہاڑ (خشک اور) بے آب و گیا ہوگئے اور ہماری زمینیں ویران ہوگئیں اور خاک اڑنے لگی اور ہمارے مویشی پیاسے مرنے لگے۔ اے خیر و خوبی کو اس کے مقامات سے عطا کرنے والے، اے رحمت (بارش) کو اس کے معدنوں (بادلوں) سے نازل فرمانے والے، اور فریاد رس [فریاد کو پہنچنے والا] بارش کے ذریعہ مستحق لوگوںپر برکتوں کے دریا بہانے والے، تو ہی ہے جس سے مغفرت طلب کی جائے، بڑا مغفرت کرنے والا۔ لہٰذا ہم تجھ سے اپنے بڑے بڑے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں اور عام خطائوں سے بھی توبہ کرتے ہیں۔ اے اللہ!پس تو ہم پر موسلادھار برسنے والے [تیز برسنے والے] بادل بھیج دے اور بارش کو جلد پہنچادے اور خاص اپنے عرش کے نیچے سے برسا کہ ہمیں نفع پہنچائے اور ہمارے لیے مفید ہو، عام اور فراواں [وسیع] تمام روئے زمین پر چھا جانے اور پھیل جانے والی، اور جل تھل [اتنا مینہ برسا کہ ہر طرف پانی ہی پانی دکھائی دے] بارش ہو، ازرانی، خوشحالی، سرسبزی، شادابی اور خوب گھاس چارہ بخشنے والی بارش ہو۔ فائدہ: حدیث شریف میں آیا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق ؓ نے (قحط سالی کے موقعہ پر) بارش کی دعا کی اور صرف استغفار1 پر اکتفا فرمایا۔بارش کی مضرتوں سے بچنے کی دعائیں ۱۔ جب آسمان پر بادل آتے ہوئے دیکھے تو یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا اُرْسِلَ بِہٖ۔ اَللّٰھُمَّ سَیْبًا نَّافِعًا۔ اے اللہ! ہم تجھ سے پناہ مانگتے ہیں، اس خیر کے شر سے جو یہ بادل لایا ہو، اے اللہ! اس (بارش) کو خیر و برکت اور منفعت والا بنادے۔ ۲۔ اگر بارش نہ ہو اور بادل کھل جائے تو اس پر اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے اور اللہ کا شکر ادا کرے (کہ نہ برسنے میں ہی خیر تھی)۔ ۳۔ اور جب بارش برس رہی ہو تو تین مرتبہ دعا پڑھے: