حصن حصین مترجم اردو - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
۹۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ اِنہی صحابی (معاذؓ ) نے عرض کیا: یارسول اللہ! آپ مجھے (کچھ) وصیت کیجیے۔ آپ نے فرمایا: اپنے مقدور بھر اللہ کے تقویٰ (خوف) کو اپنے اوپر لازم کرلو اور ہر حجر و شجر [پتھر اور درخت] کے پاس (یعنی ہر جگہ) اللہ کا ذکر کیا کرو اور جو بھی کوئی ۔ُبرا کام کر بیٹھو، فوراًاللہ تعالیٰ کے سامنے اُس سے ازسرنو [دوبارہ] توبہ کرو، پوشیدہ گناہ کی پوشیدہ توبہ اور اعلانیہ گناہ کی اعلانیہ توبہ۔3 ۱۰۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کسی بھی آدمی نے کوئی عمل ایسا نہیں کیا جو اللہ کے ذکر سے زیادہ اس کو اللہ کے عذاب سے نجات دلانے والا ہو۔ ۱۱۔ اِسی روایت میں آیا ہے کہ صحابہ نے عرض کیا: (یارسول اللہ!) نہ اللہ کی راہ میں جہاد؟آپ نے فرمایا: (ہاں) نہ اللہ کی راہ میں جہاد، بجز اُس شخص کے جو اپنی تلوار سے دشمنوں کی گردنیں اِس قدر کاٹے کہ وہ ٹوٹ جائے۔ (آخری جملہ) آپ نے تین مرتبہ فرمایا۔4 ۱۲۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ اگر ایک آدمی کی گود میں درہم (روپے بھرے) ہوں، اور وہ ان کو (برابر) تقسیم کررہا ہو اور دوسرا آدمی برابر اللہ کا ذکر کررہا ہو، تو اللہ کا ذکرنے والا اُس (درہم تقسیم کرنے والے) سے افضل و اعلیٰ ہوگا۔1 ۱۳۔ ایک اور حدیث شریف میں آیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب تم بہشت [جنت] کے سبزہ زاروں [باغات] میں گذرا کرو تو سیر ہوکر، چر لیا کرو (یعنی ذکر۔ُ اللہ کی نعمت خوب اچھی طرح حاصل کرلیا کرو) صحابہ نے عرض کیا: بہشت کے باغ کیا ہیں؟آپ نے فرمایا:ذکر کے حلقے (مجمعے)۔2 ۱۴۔ ایک اور حدیثِ قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: آج تمام اہلِ ۔َمحشر کو معلوم ہوجائے گا کہ کرم (عزت و احترام) کے لائق کون لوگ ہیں، تو رسول اللہﷺ سے دریافت کیا گیا: یارسول اللہ! یہ عزت واحترام کے لائق کون