حصن حصین مترجم اردو - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
۶۰۔ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْتَھْدِیْکَ لِاَرْشَدِ اَمْرِیْ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ۔ اے اللہ! میں تجھ سے اپنے (حق میں) سب سے اچھے کام کی رہنمائی طلب کرتا ہوں اور تجھ ہی سے اپنے نفس کے شر پناہ مانگتا ہوں۔ ۶۱۔ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْتَغْفِرُکَ لِذَمنْبِیْ وَاَسْتَھْدِیْکَ لِمَرَاشِدِ اَمْرِیْ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ فَتُبْ عَلَیَّ اِنَّکَ اَنْتَ رَبِّی، اَللّٰھُمَّ فَاجْعَلْ رَغْبَتِیْ اِلَیْکَ وَاجْعَلْ غِنَایَ فِیْ صَدْرِیْ وَبَارِکْ لِیْ فِیْمَا رَزَقْتَنِیْ وَتَقَبَّلْ مِنِّیْ اِنَّکَ اَنْتَ رَبِّیْ۔3 اے اللہ! میں تجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرتا ہوں اور اپنی زندگی کے صحیح مصالح کی رہنمائی طلب کرتا ہوں اور تیرے حضور میں توبہ کرتا ہوں، پس تو میری توبہ قبول فرما، بے شک تو ہی میرا پروردگار ہے۔ اے اللہ! پس تو مجھے اپنی طرف راغب بنالے اور میرے دل کو غنی بنادے اور جو کچھ (رزق) تو نے مجھے عطا فرمایا ہے، اس میں برکت دے اور تو میری یہ دعا قبول فرمالے، بیشک تو ہی تو میرا پروردگار ہے۔ ۶۲۔ یَا مَنْ اَظْھَرَ الْجَمِیْلَ وَسَتَرَ الْقَبِیْحَ وَیَا مَنْ لَّا یُؤَاخِذُ بِالْجَرِیْرَۃِ وَلَا یَھْتِکُ السِّتْرَ۔ یَا عَظِیْمَ الْعَفْوِ یَا حَسَنَ التَّجَاوُزِ یَا وَاسِعَ الْمَغْفِرَۃِ یَا بَاسِطَ الْیَدَیْنِ بِالرَّحْمَۃِ یَا صَاحِبَ کُلِّ نَجْوٰی یَا مُنْتَھٰی کُلِّ شَکْوٰی یَا کَرِیْمَ الصَّفْحِ یَا عَظِیْمَ الْمَنِّ یَا مُبْتَدِیَ النِّعَمِ قَبْلَ اِسْتِحْقَاقِھَا یَا رَبَّنَا وَیَا سَیِّدَنَا وَیَا مَوْلَانَا وَیَا غَایَۃَ رَغْبَتِنَا اَسْئَلُکَ یَا اَللّٰہُ! اَنْ لَّا تُشَوِّیَ خَلْقِیْ بِالنَّارِ۔1 اے وہ (ذاتِ کریم) جس نے (اپنے بندوں کے) اچھے کا موں کو ظا ہر کیا اور برے کاموں پر پردہ ڈالا اور اے وہ (ذاتِ رحیم) جو جرم پر (فوراً) مواخذہ نہیں کرتا اور (بد کاریوں کی) پردہ دری نہیں کرتا، اے بہت بڑے معاف فرمانے والے، اے بہت اچھے در گذر کرنے والے، اے وسیع (عام) مغفرت کرنے والے، اے رحمت کے لیے دونوں ہاتھ کھلے رکھنے والے، اے ہر سرگوشی جاننے والے، اے ہر شکایت کے آخری سننے والے، اے ازراہِ کرم درگذر کرنے والے، اے بہت بڑے احسان کرنے والے، اے استحقاق سے پہلے نعمتوں کے دینے میں پہل کرنے والے، اے ہمارے پروردگار! اے ہمارے مولیٰ! اے ہمارے مالک! اے ہماری رغبت کی انتہا! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اے اللہ! کہ تو میرے تن بدن کو جہنم کی آگ سے مت جھلسیو۔ ۶۳۔ تَمَّ نُوْرُکَ فَھَدَیْتَ فَلَکَ الْحَمْدُ، عَظُمَ حِلْمُکَ فَعَفَوْتَ فَلَکَ الْحَمْدُ، بَسَطْتَّ یَدَکَ فَاَعْطَیْتَ فَلَکَ الْحَمْدُ، رَبَّنَا وَجْھُکَ اَکْرَمُ الْوُجُوْہِ وَجَاھُکَ اَعْظَمُ الْجَاہِ وَعَطِیَّتُکَ اَفْضَلُ الْعَطِیَّۃِ وَاَھْنَأُھَا تُطَاعُ رَبَّنَا فَتَشْکُرُ وَتُعْصٰی رَبَّنَا فَتَغْفِرُ وَتُجِیْبُ الْمُضْطَرَّ وَتَکْشِفُ الضُّرَّ وَتَشْفِی السَّقِیْمَ وَتَغْفِرُ الذَّمنْبَ وَتَقْبَلُ التَّوْبَۃَ وَلَا یَجْزِیْ بِـٰالَائِکَ اَحَدٌ وَلَا یَبْلُغُ مَدْحَتَکَ قَوْلُ قَائِلٍ۔2 تیرا نور (ہدایت) پورا (اور کامل) ہے، اسی لیے تو نے (تمام مخلوق کو) ہدایت کی، پس تیرے ہی لیے (تما متر) تعر یف ہے،