احتساب قادیانیت جلد نمبر 59 |
|
برخلاف مرزاقادیانی کے دونوں کٹر مخالفین نے نہ کوئی جوابی عربی قصیدہ لکھا اور نہ موت کا شکار ہوئے۔ بلکہ خود مرزاقادیانی بوجہ دجال ہونے کے اپنی بددعا کو خود شکار ہوگیا اور اس بددعا کے چھ سال بعد کاذب ہلاک ہوگیا۔ کیونکہ یہ قصیدہ ۱۹۰۲ء کو تحریر ہوا اور مرزاقادیانی ۱۹۰۸ء کو ہلاک ہوا اور پھر طرفہ تربات یہ ہے کہ مرزاقادیانی کے چار بڑے مخالفین مولوی ثناء اﷲ صاحب اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور پھر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی اور علی حائری شیعہ لاہوری عرصہ دراز تک بخیر وعافیت زندہ رہے۔ ان حالات کے پیش نظر مرزاقادیانی خود ہی ارض خدا پر ایک قرار یافتہ نجاست تھا اور زمین لاہور کے اندر جو پاکستان بننے والی تھی ہلاک ہوا۔ لیکن اس ارض پاک نے اسی ناپاک لاش کو قبول نہ کیا اور اس کو ہندوستان کی طرف دھکیل دیا اور وہ لاش اپنے آبائی قصبہ قادیان میں مدفون ہوئی اور ’’شذ فی النار/۱۳۷۲‘‘ بن گئی اور مرزا غلام احمد/۱۳۷۲ سے لپٹ گئی اور مفہوم یہ رہا کہ مرزاغلام احمد مر کر آگ میں گر گیا۔ جیسا کہ اعدادًا بطور ذیل ہے۔ (مرزاغلام احمد)/۱۳۷۲ ’’شذ فی النار/۱۳۷۲‘‘ یعنی مرزاغلام احمد آگ میں گر گیا۔ چونکہ مرزاقادیانی نے اپنے مندرجہ بالا دونوں اشعار میں مولوی ثناء ﷲ وغیرہ کی معیت میں دیگر اہل علم وفضل کو بھی جواب لکھنے کی دعوت دی ہے۔ اس لئے مجھ پر بھی جب کہ میں بھی عربیت سے قدرے شغف رکھتا ہوں۔ یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ حسب استطاعت اس کا موزوں ومناسب جواب لکھ کر شائع کروں تاکہ جواب خشت بخشت یا جواب خشت بسنگ ثابت ہو اور پھر مجھ کو بھی سخت وکرخت جواب لکھنے کی بھی اجازت رہے گی۔ کیونکہ مرزائی شعر اوّل کے فقرہ ’’واملوا کمثلی‘‘ کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں: مفہوم اوّل: یہ کہ تم میری مانند ایسی کتاب لکھو جس میں میرے اردو مضمون کی تردید اردو مضمون میں اور عربی قصیدہ کا جواب عربی قصیدہ میں ہو۔ مفہوم دوم: یہ ہے کہ جس طرح میں نے اپنی کتاب کے اندر اپنے مخالفین ومعاندین کو سب وشتم اور گالی گلوچ کا نشانہ بنایا ہے۔ اسی طرح تم بھی مجھے اپنی گالی گلوچ اور سب وشتم اور غیر مہذب الفاظ سے موسوم ومخاطب کر سکتے ہو۔ گویا کہ ہمیں مرزاقادیانی کی جانب سے اجازت مل چکی ہے کہ ہم بھی مرزائی گالیوں کا جواب گالیوں میں اور بکواس کا جواب بکواس سے پیش کریں۔ اس پر فریق ثانی کو ناراض ہونے اور برا منانے کا حق وجواز نہیں ہوگا۔ چنانچہ مرزاقادیانی نے اپنے مخالفین ومخاصمین کو زمین پر چلنے پھرنے والی نجاست ونحوست قرار دے کر کہا ہے: ’’فلا تلطخوا