حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا عہد شباب |
|
ساتھ جانے سے صاف انکار فرمایا اور اللہ نے آپﷺکو وہاں سے غائب کردیا۔ آپﷺ کی پھوپھیاں ، چچے اور دیگر اعزہ پریشان ہوگئے ۔ آپﷺ واپس آئے تو سب کو پریشان پایا، تو فرمایا: کہیں کوئی شیطان تو مجھے نہیں لے گیا تھا؟ تو سب نے بیک زبان کہا: ایسے کیوں ہوتا؟ فِیْکَ مِنْ خصَال الخَیْر۔ (اَلسِّیْرۃ الحلبِیَۃُ: ۱/۱۷۹) ’’تم میں اچھی عادات ہیں ۔‘‘ اس وقت خصال خیر (اچھی عادات) یہ تھیں ، انفاق فی سبیل اللہ( میں زکوٰۃ اگرچہ فرض نہ تھی تاہم مساکین اور ضرورت مندوں کی خبر گیری کے لیے خرچ کرنے کا نام بھی زکوٰۃ ہے) (۲) شجاعت(بہادری)، شیطان لعین کی فتنہ انگزیوں کے سامنے سینہ سپرہوجانا، غصہ پر قابو پانا، معاف کرنا اور اپنے حقوق دوسروں پر نثار کرنا یہ سب سے بڑی شجاعت ہے جوآپﷺ میں اس وقت بھی موجود تھی۔ (۳)اَلْحِلْم: جسے برداشت ، وقار اور سلیقہ شعاری جیسے عظیم جواہر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ (زاد المعاد: ۳/۵۳۲) یعنی جوانی میں طیش و عجلت پسندی جیسی ناپسندیدہ خصلتوں سے آپﷺ بچے ہوئے تھے۔ الغرض:آپ ﷺ میں ’’خِصَالِ خَیْر‘‘ کے وجود کا مفہوم یہ ہے کہ ( اس عمر میں ) آپ ﷺ اتنی خوبیوں کے پیکر تھے، جو عام آدمی میں جمع نہی ہوسکتیں ۔ (سُبُل الہُدیٰ: ۱/۴۹۵) سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے قبل از اسلام آپﷺ کے شمائل کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا۔ (اِنَّکَ تُعِیْنُ عَلٰی نَوائبِ الحَقِّ) اس کا مفہوم بھی یہی ہے کہ رائج الوقت جتنے بھی امور خیر ہیں وہ آپﷺ کی اعانت سے وجود میں آرہے ہیں ۔ (سبل الہُدی۔ ۱/۵۱۸)سچائی: سچ بولنے والے انسان کو صرف زبان سے نہیں ، اپنے کردار سے بھی سچا ثابت ہونا ہوتا ہے۔ اس کی زبان کے نیچے دوسری زبان نہیں پوری جان ہو تی ہے جو وہ کہتا ہے اس پر جان بھی دے سکتا ہے۔ نزول وحیسے پہلے آپﷺ کے سچ بولنے کی وجہ سے آپﷺ کا لقب اَلْاَمِیْنُ رکھ دیاگیا تھا یعنی آپﷺ کے قول و فعل تضاد سے خالی تھے،سیدنامحمدﷺ کے سارے دوست و رشتہ دار، شریکِ کار، مرد و عورت اپنے و بیگانے سب ہی سچا سمجھتے تھے۔ (خصائص الکبریٰ: ۲/۲۰)