حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 2 |
یات طیب |
|
تھے، اس طرح ہم اگر آپ کو ایک عالمی شخصیت کہیں تو ہرگز مبالغہ نہ ہوگا۔ آپؒ نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ آزادی کی لڑائی سب کو مل جل کر لڑنی ہے، یہ لڑائی محض اسلام کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہئے۔ آپ کو اس بات پر افسوس تھا کہ مسلمان اپنی ہی سرزمین پر بے تکے طور پر آپس میں بانٹ دئے گئے۔ آپ سیاسی اختلافات کو آپسی سماجی، معاشرتی، اقتصادی اور علمی رابطوں کی راہ میں حائل نہیں ہونے دینا چاہتے تھے۔ آپ نے ہمیشہ ہندوستان کی آزادی میں ہندو مسلم اتحاد کو ضروری سمجھا۔ ہندوستان آزاد ہونے کے بعد کن جہات میں ممتاز ہوگا؟ ہندوستان کے نظم و نسق میں مسلمانوں کا کردار کیا ہوگا؟ آئین ہند کیسا ہوگا؟ یہاں کے شہریوں کی فکر اور سوچ کیا ہوگی؟ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان اقتصادی، سائنسی اور ٹکنالوجی کے فرق سے پیدا ہونے والے خطرناک مسائل کیسے حل ہوجائیں گے؟ اس طرح کے متعدد سوالات آپ کے ذہن و فکر کو جھنجھوڑتے رہتے تھے اس طرح کا واضح اظہار آپ کی تحریروں اور تقریروں میں بخوبی ہوتا ہے۔ حج کے ذریعے سے آپ نے علمی تحقیقات کا راستہ وسیع سے وسیع تر کیا۔ عالم اسلام کے موجودہ حالات اور تقاضے، آزادی کی بازیافت کی کوشش، اسلامی نظام کے نفاذ کے طریقے جیسے سوالات آپ کے ذہن رسا میں گشت کرتے رہتے تھے۔آپ نے بڑی دانشمندی اور گہرے مطالعے کے بعد مجتہدین اور ان کے اختیارات کو واضح فرمایا۔ آپ نے اپنی تحریروں سے مشائخ زمانہ اور صوفیہ عصر کو جگانے کی کوشش کی۔ آپ نے فروعی اختلافات کو کبھی اہمیت نہ دی، بلاشبہ علمائے دیوبند عشقِ رسول میں دیوانہ ہیں اور نبی اکرم Bکے تذکرہ کی بزم سجانے کو دونوں حیات کی سعادت مانتے ہیں ۔اس ذیل میں نام گنوائے جائیں تو ایک دفتر درکار ہوگا، موٹے طور پر حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ، مفتی محمد شفیع عثمانیؒ، مولانا محمد میاں ؒ، قاضی زین العابدین میرٹھیؒ کے نوادرات کے ساتھ ساتھ خاتم النبیین از حکیم الاسلام مولانا محمد طیب صاحب ؒاور آفتاب نبوت، یہ دو ایسی لاجواب کتابیں ہیں جو فی الواقعی نبی اکرمB سے محبت کرنے والوں اور عاشقانِ رسول کے لئے سکون قلب کا ذریعہ ہیں ۔ دارالعلوم دیوبند کے نصاب تعلیم کو لے کر ایک عرصے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور دور حاضر کے تقاضوں کا حوالہ دے کر اس میں تبدیلی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ۱۹۸۰ء میں جب دارالعلوم کا صدسالہ اجلاس منعقد کیا تو راقم الحروف وزارت اطلاعات و نشریات کی طرف سے اس کی خبروں کو حاصل کرنے کے لئے دہلی سے دیوبند حاضر ہوا تھا اور اس موقع پر حضرت حکیم الاسلام مولانا محمد طیب صاحبؒ سے ایک انٹرویو لیا تھا، اس میں من جملہ دیگر سوالوں کے ایک سوال یہ تھا کہ کیا آپ نصاب تعلیم میں کوئی تبدیلی لانا چاہیں گے؟ آپ نے ایک مخصوص لہجے میں فرمایا کہ بھائی ہم تو