حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 2 |
یات طیب |
|
(۷) حضرت مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسریؒ فاضل دیوبند (ایڈیٹر اخبار اہل حدیث) (۸)حضرت مولانا مرتضیٰ حسن صاحب چاندپوری رحمۃ اللہ علیہ (۹) امام اہل سنت حضرت مولانا عبدالشکور صاحب لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ (۱۰) حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی رحمۃ اللہ علیہ ان اکابر کے علاوہ اور بھی علاقہ کے بڑے بڑے علماء اس تاریخی اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس سے قبل ۱۸؍مارچ ۱۹۲۱ء میں قصبہ بٹالہ میں حضرت مولانا سراج احمد صاحب، حکیم مولوی ابوتراب عبدالحق صاحب اور حکیم الاسلام مولانا محمد طیب صاحب رحمہم اللہ اجمعین کی عالمانہ اور محققانہ ایسی تقریریں ہوئیں کہ مرزائی اس کی تاب نہ لا سکے اور بوکھلا کر سطحی قسم کے اعتراضات کرنے لگے۔ اسی قسم کے ایک اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت حکیم الاسلام کی تقریر کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے۔ واضح رہے کہ تقریر کی اصل رپورٹ اسی زمانہ میں انجمن کی جانب سے شائع ہوئی تھی۔ اس کا اختصار کرتے ہوئے مولانا ازہر شاہ قیصر رحمۃ اللہ علیہ نے ماہنامہ دارالعلوم کے شمارہ نمبر(۴۸) ج۴، جنوری ۱۹۷۵ء میں حضرت حکیم الاسلام رحمۃ اللہ علیہ کے زمانہ اہتمام میں شائع فرمائی تھی چوں کہ یہ تحریر خود حضرت حکیم الاسلام کی نظر سے بھی گذر چکی ہے اس لئے اس کی معتربیت میں اور اضافہ ہوجاتا ہے۔ اقتباس ملاحظہ کرنے سے پہلے یہ پس منظر ذہن میں رکھنا چاہئے کہ قادیانیوں نے چوں کہ تحریک خلافت میں انگریزوں اور غیر مسلموں کا ساتھ دے کر عملی طور پر یہ ثبوت دیا تھا کہ قادیانی نہ مسلمان ہیں اور نہ ہی وہ مسلمانوں کے ساتھ کسی اجتماعی و انفرادی معاملہ میں شریک رہنا چاہتے ہیں ۔ چنانچہ خلافت عثمانیہ کے سقوط پر انہوں نے قادیان میں گھی کا چراغ جلا کر انگریزوں کے ساتھ جشن منایا اور اپنے اسلام دشمنی کی خوب خوب داد انگریزوں سے وصول کی۔ اس اجلاس میں کسی مقرر نے ان کو ان کے کردار کا عملی آئینہ دکھایا تو انہوں نے اعتراض کیا۔ ملاحظہ فرمائیے وہ اعتراض اور اس کا حکیمانہ و مسکت جواب : بقلم از شاہ قیصر:تاریخی اجلاس میں حضرت حکیم الاسلامؒ کا خطاب ’’ حضرت حکیم الاسلام مولانا محمد طیب صاحبؒ نے اثنائے تقریر میں فرمایا ’’یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اب جو خلافت کے متعلق رونا رویا جاتا ہے یہ پہلے کیوں نہ رویا جاتا تھا‘‘۔ اس کے متعلق ایک مثال دیتا ہوں تاکہ جواب جلدی سمجھ میں آجائے مثلاً ایک شخص کے پاس چایس