حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 2 |
یات طیب |
|
قرآن اور حدیث پڑھاتے ہیں ، تم کیا چاہو؟ کیا ہم قرآن اور حدیث کو بدل دیں ؟ احقر خاموش ہوگیا۔ بہرکیف! جب ہم مدارس کی تاریخ پر نظر دوڑاتے ہیں اور ان کے قیام کے پس منظر کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو واضح طور پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کے قیام کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے ایمان و عقیدے کی حفاظت، اسلامی شعائر کا تحفظ، علوم اسلامیہ کی ترویج و اشاعت، اردو، فارسی اور عربی زبانوں کی بقا اور مادیت کی روح فرسا فضا میں روحانیت کے چراغ کو روشن کرنا سادہ اور قناعت کی زندگی کو اپنا کر دین اسلام کی سربلندی کے لئے خود کو وقف کرنا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ روشن خیالی کے ساتھ طریق زندگی کو اپنانا بھی ضروری ہے۔ ان سب امور کو حکیم الاسلامؒ نے سامنے رکھ کر ان کی ترویج و اشاعت کے لئے ہر ممکن تدبیر اور کوشش کی۔ یہی کوشش دارالعلوم کی تاریخ بن گئی اور آج یہ ادارہ پوری دنیا میں اپنا نمایاں مقام رکھتا ہے۔ حکیم الاسلامؒ مولانا محمد طیب صاحبؒ کی رہنمائی کا دائرہ محض ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش تک ہی محدود نہ تھا بلکہ وسط ایشیا سے لے کر روس، افریقہ، شمالی امریکہ وغیرہ تک پھیلا ہوا تھا۔ تقسیم وطن کے بعد ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً ۱۸کروڑ تک ہے۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کی متعدبہ تعداد یونان، تبت، نیپال، سری لنکا، برما، تھائی لینڈ، انڈونیشیا وغیرہ میں رہتی ہے جہاں کے طلباء دارالعلوم سے فارغ ہو کر اپنے اپنے وطن جا کر بالواسطہ طور پر حکیم الاسلام مولانا محمد طیب صاحبؒ کی اسلامی خدمات کی ترویج و اشاعت میں مصروف ہیں ۔ اس طرح آپ کی عنایت کردہ دینی تعلیم اور روشن خیالی کا ذکر پوری دنیا میں ہے۔ آپؒ نے قرآنی تعلیمات کے ذریعہ سے حقوق انسانی اور مردوں و عورتوں کی ذمہ داریوں پر بطور خاص توجہ دی اور آپ نے ان باتوں کا ذکر اپنی اکثر تقاریر میں کیا۔ آپ کی اکثر تقاریر دل پذیر میں اس بات پر زور ہوتا تھا کہ انسانوں کے اوپر خدائے بزرگ و برتر نے کچھ ذمہ داریاں عائد کی ہیں تاہم ان کی ذمہ داریوں کو سمجھنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ انسان ہونے سے کیا مراد ہے؟ آج کے دور میں ہر شخص حقوق کا مطالبہ کرتا ہے اور انسانی زندگی کو پاک و صاف دیکھنا چاہتا ہے۔ سیکولر بننے کے دعوے دار خود کو حقوق انسانی کا نقیب مانتے ہیں اور مذہبی اقدار کے محافظ دقیانوسی کہلاتے ہیں مگر یہی سیکولر بننے والے دانشور انسانوں کے بارے میں یہ سوچتے ہیں کہ یہ کسی زمانے میں بندر تھے۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ حقوق انسانی کا تصور ابھی حال میں پنپا ہے۔ حقوق انسانی کے حوالے اسلامی تعلیمات کو سمجھنے کے لئے قرآن کریم کی تعلیمات جس طرح ہماری رہنمائی کرتی ہیں ، وہ بے حد اہمیت رکھتی ہیں ۔ قرآنی تعلیمات بتاتی ہیں کہ اللہ بزرگ و برتر خالق ہے اور وہی کائنات کا مالک ہے۔اس تصور کو عام کرنے سے ان لوگوں کا اقتدار