حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 2 |
یات طیب |
|
یہ زیادہ سہل ہوگا کہ استخراج شدہ جزئیات کی تلاش و تربیت میں وہ محنت و مشقت استعمال کریں ‘‘(۹) یہ کام یقینا بہت اہم ہے کہ اور اربابِ فقہ کو یہ کام کرنا چاہئے کہ جس کی طرف اب تک توجہ نہیں ہوئی ہے یا بہت کم ہوئی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جدید تہذیب و تمدن نے بہت سے ایسے مسائل و حوادث جنم دئیے ہیں جن کا وجود ماضی میں نہیں ملتا۔ اس کے علاوہ کچھ ایسے سماجی و اجتماعی مسائل سے بھی امت دو چار ہے جو نئے تو نہیں لیکن ان کی شکل و صورت کافی تبدیل ہوگئی ہے اور ان کے لئے ایک نیا اطلاقی قالب درکار ہے۔ ان مسائل سے پہلو تہی کرنے یا اجتہاد فی الفتویٰ میں ان کا حل ڈھونڈنے کے معنی یہ ہوں گے کہ اسلامی فکر جامد ہے اور اسلام کے قوانین میں حرکت پزیری کی صلاحیت کا فقدان ہے، جیسا کہ اس کے مخالفین کہتے ہیں ۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ یہ بڑا کام کون کرے؟ علمائِ سلف نے ایک مجتہد کے لئے جو شرطیں رکھی ہیں جن کے بغیر اجتہاد کے کوچے میں قدم رکھنے سختی کے ساتھ ممانعت ہے، وہ بڑی کڑی شرطیں ہیں اور ان کا کسی ایک فرد میں جمع ہونا اگر محال نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ بعض علماء نے ان میں کچھ تخفیف بھی کی ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے اپنی معروف کتاب ’’عقد الجید فی احکام الاجتہاد والتقلید‘‘ میں علامہ بغوی کے حوالے سے لکھا ہے: ’’ولا بأس ان یورد کلام البغوی فی ھذا الموضع۔ قال البغوی والمجتھد من جمع خمسۃ انواع من العلم: علم کتاب اللّٰہ و علم سنۃ رسول اللّٰہ و علم اقاویل علماء السلف من اجماعھم واختلافھم وعلم اللغۃ وعلم القیاس وھو طریق استنباط الحکم عن الکتاب والسنّۃ اذا لم یَجِدْہ صریحا فی نصِّ کتاب او سنۃ او اجماع الخ۔ (۱۰) ’’کچھ مضائقہ نہیں کہ اس جگہ (شرط اجتہاد کے بیان میں ) بغوی کا قول ذکر کیا جائے۔ بغوی نے کہا ہے کہ مجتہد وہ عالم ہے جو پانچ شرطوں کاجامع ہو۔ اول کتاب اللہ کا علم، دوم رسول اللہ کی سنت کا علم، سوم علماء سلف کے اقوال کا علم کہ ان کا اتفاق کس قول پر ہے اور کس قول میں اختلاف ہے، چہارم علم لغت، پنجم علمِ قیاس اور یہ ایک طریقہ ہے قرآن و سنت اور اجماع میں حکم مذکور صریحاً نہ پائے‘‘۔ الخ امت کی موجودہ ذہنی و فکری حالت کے پیش نظر اب ایک ہی صورت ہے کہ اجتہاد کا کام انفرادی کے بجائے اجتماعی طور پر انجام دیا جائے، یعنی علماء و فقہاء کی ایک ایسی جماعت یہ کام کرے جو مذکورہ شرطوں کو بدرجۂ اتم پورا کرتی ہو۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروی ہے کہ اس جماعت میں ایسے افراد شامل ہوں جو جدید