حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 2 |
یات طیب |
|
کے باوجود قابل تبدّل ہیں ؟ حکیم الامتؒ کا رجحان نفی کی طرف ہے۔ وہ لکھتے ہیں : ’’احوال ہمیشہ بدلتے رہے ہیں اور بدلتے رہیں گے۔ حال کے معنی ہی ماحال فقد زال کے ہیں (یعنی جو حال آیا وہ زائل بھی ہوگا) پس حال تو بدلنے ہی کے لئے بنایا گیا ہے۔ لیکن اصولِ فطرت بدلنے کے لئے نہیں لائے گئے ہیں ، وہ اپنی جگہ اٹل ہی رہیں گے، البتہ ان شرعی اصولوں میں ایسی وسعتیں رکھی گئی ہیں کہ وہ ہر بدلتی ہوئی حالت میں وقت کے مناسب رہنمائی کرسکیں ۔ (۷) ایک دوسری جگہ انہوں نے لکھا ہے کہ ’’ان اصولوں کی وسعتوں میں ایسی گنجائش بھی رکھی گئی ہے کہ ان سے ہر دور کے مفکر اور اہل علم و فضل نے استخراجِ مسائل کی حد تک کام بھی لیا ہے اور آج بھی لے سکتے ہیں ، جن میں ہر دور کے حوادث کے لئے سامان ہدایت موجود ہے۔ اس لئے تمدن و معاشرت کی مشخص عملی جزئیات اور سننِ زائدہ پر اس قانون فطرت نے زیادہ زور نہیں دیا بلکہ اسے وقت اور زمانے کے حوالے کردیا ہے جو ہر زمانے میں نئی نئی صورتیں بدلتی رہتی ہیں ، انہیں اہل علم ان کے اصولوں سے وابستہ کرکے ان کے احکام نکال سکتے ہیں ۔‘‘(۸) لیکن اس عبارت سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ حکیم الاسلامؒ اجتہادِ مطلق کے حامی تھے۔ صحیح بات یہ ہے کہ وہ دیگر حنفی فقہاء و علماء کی طرح اس نوع کے اجتہاد کے منکر تھے۔ انہوں نے جس طرح کے اجتہاد کی تائید کی ہے اس کا تعلق ائمہ فقہ کے مستخرجہ جزئیات میں ترجیح و انتخاب ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ائمہ سلف نے قرآن و سنت کے نصوص کی روشنی میں خوب غور و فکر کرکے عملی جزئیات مقرر کردئے ہیں حتی کہ بعید سے بعید تر محتملات کے بھی جزئیات کا تعین کردیا ہے اس لئے فکر و نظر کی سلامتی اس میں ہے کہ ان پر اعتماد کیا جائے۔ لکھتے ہیں : ’’ہر دور کے حوادث میں نوعی طور پر یکسانی ہوتی ہے گوحادثوں کی شکلیں حسب زماں و مکاں کچھ جدا جدا بھی ہوں ، اس لئے وہی جزئیات (جو پہلے نکالی جا چکی ہیں ) آج کے حوادث میں بھی بے کار ثابت نہیں ہو سکتیں اور کچھ نہیں تو آج کی جزئیات کو کم از کم ان پر قیاس تو ضرور ہی کیا جاسکتا ہے، بلکہ بہت ممکن ہے کہ فقہیات میں ایسی جزئیات بکثرت مل جائیں جو آج کے دور میں بھی سابق دور کی طرح کار آمد ثابت ہوں اور حالات کا مقابلہ کر سکیں ۔ ضرورت اگر ہوگی تو باب وار تلاش و جستجو کی ہوگی۔ یہ جزئیات چوں کہ فقیہانہ ذہنوں سے نکلی ہوئی ہیں اس لئے بہ نسبت ہماری استخراج کردہ جزئیات کے منہاجِ نبوت سے زیادہ قریب ہوں گی۔ اس لئے بجائے اس کے کہ ہم از سرِ نو قواعدِ کلیہ سے جزئیات کا استنباط کرنے کی مشقت میں پڑیں