حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 2 |
یات طیب |
|
قیام کریں ، سجدے میں جائے تو یہ بھی سربسجود ہوجائیں ، وہ ’’ولا الضالّین‘‘ کہے تو یہ آمین کہیں ، حتی کہ اگر امام سے سہواً کوئی جزئی غلطی بھی سرزد ہوجائے اور وہ سجدۂ سہو کرے تو مقتدی بھی اس کی خطا میں ساتھ دیں اور سجدۂ سہو کریں ۔ لیکن حریت و آزادی یہ ہے کہ اگر امام قرأت یا افعال صلوٰۃ میں کوئی ادنیٰ سی بھی غلطی کر جائے تو ہر مقتدی کو نہ صرف ٹوک دینے کا حق ہے بلکہ مقتدی اس وقت تک امام کو چلنے نہیں دے سکتے جب تک وہ اپنی غلطی کی اصلاح نہ کرے، بعینہٖ یہی صورت امامت کبریٰ یعنی اسٹیٹ اور ریاست کی بھی ہے کہ امیر المؤمنین کی سمع و طاعت تو ہر معاملے میں واجب ہے ورنہ تعزیر و سزا کا مستحق ہوگا۔ لیکن ساتھ ہی خود امیر کی کسی خطا ولغزش پر ایک عامی سے عامی آدمی بھی برملا روک ٹوک کرنے کا حق رکھتا ہے جب تک کہ امیر اس فعل کی اصلاح نہ کرلے یا اس کا کوئی صحیح عذر سامنے نہ رکھے(۵)۔‘‘ بطور مثال انہوں نے اس مشہور واقعے کا ذکر کیا جس کا تعلق خلیفۂ ثانی سے ہے کہ ایکبار وہ منبر پر کھڑے ہوئے اور کہا : اسمعوا و اطیعوا ’’سنو اور اطاعت کرو‘‘ یہ سن کر ایک بدّو کھڑا ہوگیا اور کہا ’’ہرگز نہیں ، پہلے یہ بتائو کہ یہ چادر جو تم نے اوڑ رکھی ہے کس طرح تیار ہوئی؟ جب ان کے بیٹے (عبداللہ بن عمرؓ) نے معاملے کی وضاحت کی تو بدو مطمئن ہوگیا اور پھر بولا ’’اب ہم سنیں گے بھی اور اطاعت بھی کریں گے‘‘۔(۶) اس بحث سے ان کا مقصود جیسا کہ راقم نے سمجھا ہے، یہ نکتہ ذہن نشین کرانا ہے کہ اسلام میں نہ مطلق پابندی ہے اور نہ ہی مطلق آزادی، یہ دونوں کا مرکب ہے۔ اس میں اگر تقلید ضروری ہے تو حریت رائے کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے۔ جب دین اسلام کا یہ مزاج ہے کہ امام نماز اور خلیفۂ وقت کو کسی غلطی کے ارتکاب کی صورت میں ٹوکا جا سکتا ہے تو پھر کسی مجتہد سے، اگر وہ کسی فکری خطا کا مرتکب ہو یا اس کی فکر زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہو،اختلاف بالکل جائز ہوگا لیکن جس طرح امام نماز اور خلیفہ کو ٹوکنے کا مجاز صرف وہ شخص ہے جو صلوٰۃ اور کارِ خلافت میں شریک ہو ، اسی طرح کسی مجتہد عالم کی رائے اور فکر سے اختلاف اور اس کی اصلاح کا حق ہر کس و ناکس کو نہیں بلکہ صرف ان اشخاص کو حاصل ہے جو قرآن و سنت کے فہم و درک میں رسوخ رکھتے ہوں ۔ حکیم الاسلامؒ نے مسئلہ اجتہاد کے جس دوسرے پہلو پر بتکرار روشنی ڈالی ہے وہ اسلامی شریعت کے اصول اور اس سے مستنبط جزئیات میں باعتبار تغیر فرق کی نوعیت ہے۔ اصول و کلیات ناقابل تغیر ہیں اور اس پر جملہ علماء و فقہاء کا اتفاق ہے لیکن کیا جزئیات بھی جن کا تعلق معاملات سے ہو، حالات و ظروف کی تبدیلی