حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 2 |
یات طیب |
|
اجتہاد کے ہر پہلو سے کامل واقفیت رکھتے تھے۔ ان کی نگاہ بڑی باریک بیں اور نکتہ رس تھی۔ اصولی طور پر حکیم الاسلامؒ عصر جدید کے پیچیدہ احوال و مسائل کے پیش نظر اجتہاد کے قائل تو تھے لیکن اس بارے میں بہت حساس اور محتاط واقع ہوئے تھے۔ ان کے نزدیک اجتہاد کا تعلق عقائد و عبادات سے نہیں ، صرف معاشرتی و سیاسی اور اجتماعی معاملات سے ہے۔فرماتے ہیں : ’’قواعدِ کلیہ میں جو ضوابط عبادات اور عقائد کے بارے میں ہیں ان کی عملی جزئیات بھی شریعت نے خود متعین کردی ہیں ، اس لئے اس میں تغیر، تبدل یا کسی جدید تشکیل کا سوال پیدا نہیں ہوسکتا۔ البتہ معاملاتی، معاشرتی اور سیاسی و اجتماعی امور میں چوں کہ زمانے کے تغیرات سے نقشے ادلتے بدلتے رہتے ہیں اس لئے شریعت نے ان کے بارے میں کلیات زیادہ بیان کی ہیں اور ان کی جزئیات کی تشخیص کووقت کے تقاضوں پر چھوڑ دیا ہے، جن میں اصول و قواعد کے تحت توسّعات ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے‘‘(۴) اس سلسلے میں انہوں نے دو بنیادی امور کی طرف اصحابِ تعلیم کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ ایک یہ کہ اللہ نے انسان کو فکر کی قوت عطا فرمائی ہے اور یہ اس کی ایک بڑی نعمت ہے۔ یہی جوہرِ گراں مایہ انسان کو حیوانات سے ممتاز کرتا ہے اور اس کو ایجاد و اختراع کی طرف مائل کرتا ہے۔ مولانا کی یہ بحث بڑی جامع اور فکر انگیز ہے۔ دوسرے یہ کہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو بعض پابندیوں کے ساتھ آزادیٔ ضمیر اور حریت رائے عطا کی ہے اس خصوصیت میں کوئی دوسرا مذہب اس کا حریف نہیں ہے۔ دین کے اس امتیازی وصف کے اثبات میں انہوں نے اقامتِ صلوٰۃ (امامتِ صغریٰ) اور قیامِ خلافت (امامتِ کبریٰ) کو پیش فرمایا ہے۔ دین کے ان دو مختلف ادارات کے ترکیبی عناصر اور ان کی تنظیمی ہیئت سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اپنے پیروئوں کی جن میں ان کے حاکم بھی شامل ہیں ، تعلیم و تربیت کس طرح کرتا ہے اور ان کو کس نوع کا دینی و ملی مزاج عطا کرتا ہے اور کس درجہ حکیمانہ طریقے سے انہیں قید و آزادی کے حدود سے آشنا کرتا ہے۔ اس دلچسپ بحث کو خود انہی کے لفظوں میں ملاحظہ کیجئے۔ ’’امامتِ صغریٰ (جماعت صلوٰۃ) کے جو طور طریقے رکھے گئے ہیں وہی نوعی طور پر امامت کبریٰ اور اسٹیٹ میں بھی ہیں ۔ اس میں صورت حال کے تحت دیکھا جائے تو نماز کے مقتدیوں کو امام کا بھی پابند انتہائی طور پر کیا گیا ہے مقتدی اس سے ذرا بھی منحرف ہو تو اس کی نماز صحیح نہیں ہو سکتی۔چنانچہ اس مسجد کی امارت اور اسٹیٹ مقتدیوں پر فرض ہے کہ جب امام نیت باندھے تو مقتدی بھی ساتھ ساتھ نیت کرکے ہاتھ باندھیں ، وہ قیام میں ہو تو یہ بھی قیام کریں ، وہ رکوع کرے تو یہ بھی رکوع کریں ، وہ قیام میں جائے تو یہ بھی