حصن حصین مترجم اردو - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
۷۔ اور اگر (اثنائے سفر میں کسی سرزمین میں) شام ہوجائے اور رات آجائے (اور شب کو وہاں ٹھہرنا پڑے) تو (اس سرزمین کو خطاب کرکے) کہے: یَا اَرْضُ! رَبِّیْ وَرَبُّکِ اللّٰہُ۔ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّکِ وَشَرِّ مَا خَلَقَ فِیْکِ وَشَرِّ مَا یَدِبُّ عَلَیْکِ وَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ اَسَدٍ وَّاَسْوَدَ وَمِنَ الْحَیَّۃِ وَالْعَقْرَبِ وَمِنْ شَرِّ سَاکِنِی الْبَلَدِ وَمِنْ وَّالِدٍ وَّمَا وَلَدَ۔3 اے سرزمین! میر ا بھی رب اللہ ہے اور تیر ابھی رب اللہ ہے، میں (اسی) اللہ کی پناہ لیتا ہوں، تیرے شر سے اور جو کچھ تیرے اندر پیدا کیا ہے، اس کے شر سے اور جو جانور تیرے اوپر چلتے ہیں، ان کے شر سے اور میں پناہ لیتا ہوںاللہ کی (جنگل کے) شیر سے اور کالے ناگ سے اور (ہر) سانپ بچھو اور شہر کے باشندوں کے شر سے اور (ہر)باپ اور بیٹے کے شر سے۔ ۸۔ اور پچھلی رات کے وقت تین مرتبہ بلند آواز سے کہے: سَمِعَ سَامِعٌم بِحَمْدِ اللّٰہِ وَنِعْمَتِہٖ وَحُسْنِ بَلَائِہٖ عَلَیْنَا۔ رَبَّنَا صَاحِبْنَا وَاَفْضِلْ عَلَیْنَا عَائِذًام بِاللّٰہِ مِنَ النَّارِ۔1 سن لیا ہر سننے والے نے (یعنی سب گواہ ہیں) اللہ کی حمد و ثنا کو اور اس کے فضل و انعام کو اور ہم پر اس کے احسان کی خوبی کو۔ اے پروردگار! تو (پورے سفر میں) ہمارا رفیق رہیو اور ہم پر فضل و انعام فرمائیو، دوزخ کی آگ سے اللہ کی پناہ لیتے ہوئے (یہ کہہ رہا ہوں)۔ ۹۔ اور (جب تک سفر میں رہے وقتاً فوقتاً) یہ پانچ سورتیں پڑھ لیا کرے۔ ۱۔ قُلْ یٰٓاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ (آخر تک) ۲۔ اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ (آخر تک) ۳۔ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ (آخر تک) ۴۔ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ (آخر تک) ۵۔ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ (آخر تک)، ہر سورت کو بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ سے شروع کرے اور اسی پرختم کرے۔ فائدہ: حدیث شریف میں آیا ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہﷺ نے (حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے) فرمایا: اے جبیر! کیاتم چاہتے ہو کہ جب تم سفر میں جائو تو اپنے ساتھیوں سے صورت و ہیئت میں بہتر اور توشہ سفر (خورد و نوش) میں بڑھ کر رہو (یعنی سفر میں خوشحالی و فارغ البالی نصیب ہو)۔ جبیر کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان۔ آپ نے فرمایا: تو یہ پانچ سورتیں پڑھ لیا کرو۔ ہر سورت کو بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ سے شروع کیا کرو اور اسی پر ختم کیا کرو۔جبیر کہتے ہیں: میں کافی مالدار اور دولتمند تھا،مگر جب سفر میں جاتا تو سب سے زیادہ بدحال اور توشۂ سفر میں کمتر (تنگدست) ہوجایا کرتا تھا (یعنی سفر مجھے راس نہیں آتا تھا)۔ جب سے مجھے رسول اللہﷺ نے یہ