مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
گھومنے پھرنے اور گھر جانے کا رجحان نہ بننے پائے، نیزاساتذہ کو بھی حکمت عملی سے میٹھے بول بول کرپابند کرنا مقصود تھا۔ششماہی امتحان کے بعد فوراً اسباق شروع کرنے کا اہتمام مدرسہ میں ششماہی امتحان ہوچکاتھا، ششماہی امتحان کے بعد تعطیل کا معمول نہیں ہے بلکہ دوسرے ہی دن سے تعلیم شروع ہوجاتی ہے ، لیکن بعض طلبہ گھر جانے کا ماحول بنارہے تھے، حضرت نے پہلے سے طلبہ کو خطاب کرتے ہوئے آگاہ فرمایا۔ ’’دیکھو خبردار! میرے پاس کوئی طالب علم گھرجانے کی چھٹی کی درخواست لے کر نہ آئے، اس میں تمہارا ہی تو فائدہ ہے، گھر جانے سے تمہارا ہی نقصان ہے، تم یہ سوچو کہ تمہارے روکنے سے میرا کیا فائدہ؟ ہم کو کیا مل جائے گا، تمہارے فائدے ہی کے لئے کہہ رہاہوں ، اگر تم چلے جائو گے ہماری روٹی بچے گی، ہم خالی رہیں گے وقت بچے گا، کچھ لکھنے پڑھنے کا وقت ملے گا، ہمارے پاس تو ہزاروں کام ہیں کچھ نہیں تو علاقہ کا دورہ کروں گا، تمہاری طرح میں بھی گھوموں گا پھروں گا، علاقہ میں تبلیغی سفر کروں گا، لیکن گھر جانے سے تمہارا تو نقصان ہی ہوگا، اس لئے امتحان کے بعد فوراً اسباق شروع ہوجائیں گے، کل دوپہر تک امتحان ختم ہوگا اور پرسوں سے اسباق شروع کردیئے جائیں گے، اور میں تو اپنے اسباق کل ہی سے شروع کردوں گا کیونکہ میرے اسفار تو ویسے بھی ہوتے رہتے ہیں ، سبق کاناغہ ہوتا ہی رہتا ہے اس لئے میرے پاس کل ہی کتاب لے کر آجانا، ایک لڑکا بھی اگر ہوگا تو سبق پڑھایا جائے گا، سبق کا ناغہ نہیں ہوگا، اور جو طالب علم گھر جائے گا اخیر سال تک اس کا کھانا بند رہے گا۔علاقہ اور حالات کے اعتبار سے ماحول اور مزاج بنانا پڑتا ہے مہمان کا اکرام اس کی شان کے موافق ہونا چاہئے دوپہر کے بعد کچھ اہم مہمان آگئے جن کے طعام کیلئے حضرت فکر مند اور پریشان