مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
فیض عام کانپور کا حال کانپور میں مدرسہ فیض عام کا بھی یہی حال ہوا شروع میں تو یہ ایک خاص دینی ادارہ تھا، حضرت تھانویؒ جیسے لوگ اس میں پڑھاتے تھے، بعد میں اس میں انگریزی اور عصری علوم داخل کردیئے گئے رفتہ رفتہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی جو آج آپ کے سامنے ہے،اب تو فیض عام دینی مدرسہ نہیں انٹر کالج ہے، وہاں کوئی قاعدہ بغدادی اور ناظرہ پڑھانے والا نہیں ، حالانکہ شروع میں صرف دینی تعلیم ہوتی تھی اور حضرت تھانویؒ جیسے لوگ اس میں درس دیتے تھے، جب کچھ حالات میں تبدیلی آئی حضرت تھانویؒ نے استعفیٰ دے دیا، اور وطن جانے لگے کانپور کے حاجی عبدالرزاق وغیرہ حضرات نے حضرت تھانویؒ کو روک لیا اور جامع العلوم (پٹکاپور) کی بنیاد ڈالی اور حضرت تھانویؒنے (تقریباً۱۴؍)سال تک اسی مدرسہ میں کام کیا ۔سرکاری بورڈ سے ملی ہوئی امداد کی حیثیت بحث کے درمیان شرکاء مشورہ میں سے ایک صاحب نے عرض کیا کہ مدرسہ کی عمارت جو بھی بنی ہے وہ تو سب سرکاری پیسے سے بنی ہے ۔زمین اگر چہ مدرسہ کی ہے لیکن عمارت چونکہ حکومت کی امداد سے بنی ہے اس لئے یہ عمارت بھی اسی کی ہوگی، مسجد کا مسئلہ تو بعد کا ہے پہلے یہ طے کیا جائے کہ یہ عمارت کس کی ہے کیونکہ آج نہیں تو کل یہ مسئلہ کھڑا ہوگا حضرت نے فرمایا کہ تحقیق کرلی جائے، ایک صاحب بولے کہ یہ تو یقینی بات ہے کہ اس عمارت میں وہی رقم لگی ہے جو حکومت سے ملی ہے۔ حضرت نے فرمایا سرکار جو مدد دیتی ہے وہ مدرسہ اسلامیہ ہی کے لئے دیتی ہے اور مدرسہ اسلامیہ یہی دینی مدرسہ ہے سب ایک ہی ہے دونہیں لہٰذا یہ پیسہ بھی عربی مدرسہ ہی کے لئے ہوگا، البتہ اب مانتا ہوجانے کے بعد ضرور خطرہ ہوگا کہ پورا ادارہ اور اس کی عمارت سب حکومت کی ماتحتی میں ہوجائے، وہ لوگ تو کاغذ میں لکھاتے ہی اسی