مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
باب ۵ اصلاح معاشرہ نکاح ایک عبادت ہے اس کو عبادت سمجھ کر مسجد میں کرناچاہئے مغرب بعد مسجد میں ایک نکاح ہوا جس میں حضرت نے مختصر انداز میں چند باتیں ارشاد فرمائیں ، حضرت نے فرمایاکہ نکاح ایک عبادت ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کو مسجد میں کرنے کا حکم فرمایا ہے، (چنانچہ مشکوٰۃ شریف میں روایت موجود ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’اَعْلِنُواالنِّکَاحَ وَاجْعَلُوْہُ فِی المساجدِ (مشکوٰۃ )یعنی نکاح خفیہ طور پر نہ کیا کرو بلکہ علی الاعلان کیا کرو اور نکاح مسجد میں کیا کرو۔ وجہ اس کی یہی ہے کہ نکاح جب مسجد میں کیا جائے گا تو اور جو خرافات اس موقع پر مسجد کے باہر ہواکرتی ہیں وہ مسجد کے اندر نہیں ہوں گی، مسجد میں سادگی کے ساتھ نکاح ہوجائے گا جو باعث اجرو ثواب اور خیر وبرکت کا ذریعہ ہوگا، آج کل تو ہزاروں روپیہ سجاوٹ ہی میں پھونک ڈالتے ہیں ، اسٹیج بنا نے میں کافی پیسہ صرف کرتے ہیں ، روشنی میں اسراف ہوتا ہے، مسجد میں اگر نکاح ہو تو ان سب باتوں سے حفاظت ہوجاتی ہے، نکا ح کے موقع پر اور بھی جو خرافات و رسومات ہوتی ہیں مسجد میں وہ بھی نہیں ہوپاتیں ، کیونکہ نکاح تو ایک عبادت ہے اور جب نکا ح کو عبادت سمجھ کر کیا جائے گا تو عبادت کے اندر نانا دادا کا طریقہ اختیار نہیں کیا جاتا کہ ہمارے دادا ایسا کرتے تھے، ہمارے گھرانہ میں ایسا ہوتاہے، وہاں تو اسلامی طریقہ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہوگا تب