مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
رشتہ داروں اور متعلقین کی اہمیت حضرت دامت برکاتہم سخت علیل تھے کئی امراض میں مبتلا تھے، ایک دیہات میں ایک بوڑھی عورت کا انتقال ہوگیا جو دور کی رشتہ دار بھی ہوتی تھیں ، حضرت وہاں جانا چاہتے تھے، حضرت کے صاحب زادوں نے حضرت کی بیماری اور ضعف کو دیکھتے ہوئے مشورہ دیا کہ آ پ نہ جائیے ہم میں سے کوئی چلاجائے گا، آپ کا جانا کوئی ضروری تو ہے نہیں ، حضرت کو اس بات سے سخت ناگواری ہوئی اور کر غصہ کے لہجہ میں فرمایا تمہاری والدہ سے زیادہ اور بھی کوئی ان کا قریبی تھا، کتنا گہرا تعلق تھا، تم لوگوں کو ان باتوں کا کچھ لحاظ نہیں ، میرے بعد بھی تم لوگ یہی کروگے، سب تعلقات ختم کردوگے، تم لوگوں سے یہی امید ہے۔غریب رشتہ داروں کی بھی اہمیت قصبہ برولی میں حضرت دامت برکاتہم کے ایک دور کے رشتہ دار کا انتقال ہوگیا، جو گمنام اور بہت غریب تھے، حضرت کو ان کے انتقال کی اطلاع بعد میں ہوئی، حضرت اس وقت سفر میں تھے واپسی پر اپنے صاحبزادوں سے فرمایا کہ تم لوگو ں نے مجھ کو اطلاع کیوں نہیں دی اگر میں موجود نہ تھا تو تم لوگ تو جاسکتے تھے، ان کے جنازہ میں تو شریک ہوسکتے تھے، کیوں نہیں گئے؟ خیر میں تو اب تعزیت میں جائوں گا لیکن اسی دن جانے کی بات ہی کچھ اور ہوتی، جنازہ میں بھی شرکت ہوجاتی، تم لوگوں سے ایسی ہی امید ہے، منھ دیکھی بات کرتے ہو، غریب آدمی تھا بیچارہ اس لئے نہیں گئے، اگر کوئی مالدار ہوتا تو بھاگے چلے جاتے۔ (حضرت اقدس نے تربیت کے لئے یہ فرمایا ورنہ مخدوم زادوں کا حال یہ ہے کہ ماشاء اللہ ان سب امور کا بہت لحاظ فرماتے ہیں بلکہ حسب ضرورت مستحقین کی مالی امداد بھی فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ مزید ترقیات سے نوازے)