مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
آج طلبہ سے فیض کیوں نہیں ہوتا طلبہ کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا جس بات سے منع کردیا جائے ، جس چیز پر پابندی لگادی جائے پھر بھی اس سے باز نہ آنا اور اسی کام کو پھرکرنا کتنی بری بات ہے، آج کل طلبہ میں طاعت وفرمابرداری کا جذبہ نہیں اسی وجہ سے آج کے طلبہ کو فائدہ نہیں ہوتا، لوگ پڑھ لکھ کر فارغ ہوجاتے ہیں لیکن کورے کے کورے رہتے ہیں ، ایسے لوگ یا تو تیل بیچتے ہیں یا ہل چلاتے ہیں ،یا اور کوئی کام کرتے ہیں ، دین کا کام اور دین کا فیض ان سے نہیں ہوتا، جو طالب علم اپنے اساتذہ کی تابعداری نہ کرے اس سے کہیں فیض ہوگا؟ ہرگز نہیں نام تو ہوجائے گا کہ فارغ ہوگئے، عالم ہوگئے اشتہار میں بھی نام آجائے گا سند بھی مل جائے گی، لیکن اللہ کی رضا حاصل نہ ہوگی، حقیقی دین کا فیض اس سے نہ ہوگا۔ طلبہ کی طرف خاص توجہ کرتے ہوئے فرمایا ! تمہاری وجہ سے کتنی پریشانیاں اٹھانی پڑتی ہیں ، کتنے انتظامات کرنے پڑتے ہیں ، تمہاری بدنظمی کی وجہ سے قوانین بنانے پڑتے ہیں ، لیکن اس کے بعد بھی تم لوگ خلاف ورزی کرتے ہو، حدیث شریف میں ایسے شخص پر لعنت آئی ہے جو دوسروں کی پریشانی کا سبب بنے، شاگرد استاد کے سامنے جب تک ایسا نہ بن جائے کہ اس کی ہر بات مانے، وہ جو کہے اسے قبول کرے جب تک ایسا مزاج نہ بن جائے اس وقت تک کچھ ہوتا ہواتا نہیں ۔طلبہ کی تادیب وتنبیہ طلبہ کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا کہ تم مدرسہ میں کس لئے آئے ہو؟ اپنی زندگی بنانے کے لئے آئے ہو یا بگاڑنے کے لئے؟ تم خود دیکھو کہ تم بن رہے ہو یا بگڑرہے ہو، تم لوگوں کو اور گھر والوں کو دھوکہ دے رہے ہو، تمہارے ماں باپ پیسہ بھیجتے ہیں کہ لڑکا محنت سے پڑھ رہا ہے اور تم یہاں آزادی کرتے ہو، پڑھنے لکھنے سے کوئی مطلب نہیں ، اچھے خاصے لڑکے اسباق کا ناغہ کرتے ہیں ، آئے دن شکایت ملتی ہے کہ لڑکے غیر حاضر ہیں ، یہ ناغہ کیوں ہورہا