مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
کے خسر صاحب بڑے دیندار تھے صوم وصلوٰۃ کے پابند تھے، اولاد کوئی نہیں تھی، بڑے ارمانوں کے بعد ایک لڑکاپیدا ہوا او ر بیس پچیس سال کی عمر میں اس کا بھی انتقال ہوگیا اب ان کا برا حال نماز وغیرہ سب چھوڑدی اور یہاں تک کہنے لگے کہ (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ نے میرا لڑکا مارڈالا، میرا ایک لڑکا اللہ میاں سے نہ دیکھا گیا، اتنے دن سے میں نماز پڑھتا ہوں میرا لڑکا چھین لیا، عجیب عجیب طرح کے کفریہ کلمات زبان سے نکالا کرتے تھے، دہریہ ملحد ہوگئے تھے، نماز وغیرہ سب چھوڑ بیٹھے تھے، ہم لوگ سمجھاتے تو اس کا اور الٹا اثر ہوتا، بہت دن اس طرح گذر گئے کافی عرصہ بعد پھر ایک لڑکی پیدا ہوئی اور وہ بھی اتفاق سے ایک دن کنویں میں گر پڑی بس فوراً یہ اللہ کے حضور میں گر پڑے اور کہنے لگے ارے میرے اللہ اسے بچالے تو ہی بچا سکتا ہے، لڑکی بچ گئی اور اس کے ایک خراش تک نہ آئی بالکل صحیح وسالم نکل آئی اس کے بعد وہ کہتے تھے کہ میرے اللہ نے لڑکی بچادی، اللہ کا بہت شکرادا کرتے تھے، اور اس سے پہلے کفریہ کلمات جو بکا کرتے تھے اس پر بہت نادم تھے، بہت توبہ واستغفار کی، ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے رہتے، ہر وقت تسبیح ہاتھ میں رہتی اور اسی حال میں اللہ اللہ کرتے ان کا انتقال ہوا، جب انتقال ہوا ہے اس وقت تسبیح ان کے سینہ پر تھی۔باندا کے منّو بھائی کا قصہ بیوی نیک ہو تو شوہر کو بھی نیک بنا دیتی ہے اسی ضمن میں شہر باندا کے منو بھائی کا تذکرہ فرمایا کہ ان کا بھی عجیب حال تھا، اللہ نے بہت کافی مال دولت سے نوازا تھا اور شروع ہی سے وہ مجھے بہت مانتے تھے، میرا بہت خیال رکھتے تھے، ان کے اندر اللہ نے بعض ایسی خوبیاں رکھی تھیں ، جو باندا بھر میں کسی میں نہ ہوں گی، باندا کی جامع مسجد کا پورا انتظام انھیں کے ذریعہ سے ہوتا تھا، باندا میں جو عیدگاہ بنی ہے وہ بھی انہیں کی کوشش وایثار کا نتیجہ ہے، بس کمی ان میں یہ تھی