مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
تحاشا رونے لگے آنکھوں سے آنسو جاری ، گریہ طاری، سسکیاں بند ھ گئیں ، حضرت کے ہاتھ بھی چومنے لگے ، حضرت بھی آب دیدہ اور رنجیدہ تھے، اور غمزدہ باپ پر دست شفقت پھیرتے ہوئے اور تسلی دیتے ہوئے فرماتے جاتے تھے، شہیدمرا، شہید مرا، شہیدمراہے، تھوڑی دیر بعد حضرت نے ان کو ٹھنڈا پانی پلایا کچھ تسلی ہوئی، پھر حضرت نے فرمایا اللہ نے ایک طرح کی نہیں کئی طرح کی شہادتیں نصیب فرمائی ہیں ، حدیث پاک میں آیا ہے جو حالت سفر میں مرتا ہے وہ شہید ہوتا ہے، طالب علم کا انتقال ہو وہ شہید ہوتا ہے، ڈوب کر مرنے والا بھی شہید ہوتا ہے، یہ ساری باتیں اس کے اندر پائی جاتی تھیں ، کئی طرح کی شہادتیں اس کے اندر جمع ہوگئیں ، تجہیز وتکفین،نماز جنازہ اور تدفین ہوئی،حضرت نے بڑے اہتمام سے ان حضرات کو کھانا کھلایا واپسی کے وقت راستہ کا کھانا بھی ساتھ کردیا اور وہ حضرات واپس چلے گئے۔جامعہ عربیہ ہتورا میں ایک طالب علم کا انتقال اور حضرت کا طرز عمل حضرت مولانا کئی روز کے لئے سفر میں تشریف لے گئے تھے حضرت کی عدم موجودگی میں یہاں ایک بڑا حادثہ پیش آگیا کہ آفتاب نامی طالب علم مدرسہ کی دو منزلہ چھت کے اوپر سے سر کے بل نیچے گرا، گرتے ہی اس کی حالت خراب ہوگئی، منھ کان ناک سے خون جاری ہوگیا، فوری ممکن علاج کرایا گیا اور بہت دعائیں ہوئیں لیکن افاقہ نہیں ہوا، دوسرے روز بیچارہ اللہ کو پیار ا ہوگیا، حضرت مولاناکو اب تک اس واقعہ کا علم نہ ہوا، سفر سے واپسی کا وقت ہوچکا تھا، یہاں تجہیز وتکفین اور تدفین کی تیاری بھی ہوچکی تھی، اب انتظار صرف حضرت کی تشریف آوری کا تھا، لاش کو برف میں رکھ دیا گیا تھا تاکہ صحیح سالم محفوظ رہے، حضرت اقدس شام کے وقت باندہ پہنچے اور باندہ ہی میں آپ کو اطلاع دی گئی، مت پوچھئے کہ آپ کی حالت کیا ہوگئی، باندہ سے ہتورا روتے ہی روتے آئے، نہ کسی سے بات کررہے ہیں نہ کسی کی طرف متوجہ ہورہے ہیں ، مغرب کے بعد ہتورا پہنچے اور مغرب کی نماز ادا فرمائی اور سخت غم وکرب کے عالم میں فرمایا نماز