مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
استدلال میں یہ آیت پڑھی، وَمَارَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہ رَمیٰ (جب آپ نے پھینکا تو آپ نے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے پھینکا ،مطلب یہ کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنے ہاتھ سے کنکر مارے تھے تو واقعی حضور نے اپنے ہاتھ سے مارے تھے اس کے متعلق فرمایا گیا کہ اللہ نے مارا، تو دیکھو اللہ تعالیٰ نے حضور کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ فرمایا۔ میں نے کہا کہ اگر اس طرح استدلال سے حضور کا ہاتھ اللہ کا ہاتھ ہوجاتا ہے تو پھر صحابہ کا ہاتھ بھی اللہ کا ہاتھ ہے، کیونکہ قرآن پاک میں ہے ’’فَلَمْ تَقْتلُوْہُم وَلٰکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَہُمْ ‘‘یہ صحابہ کے متعلق ہے کہ جب کفار کو قتل کیا تو تم نے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے قتل کیا حالانکہ صحابہ ہی نے اپنے ہاتھوں سے تلوار چلائی تھی اور صحابہ ہی نے کفار کو قتل کیا تھا، تو صحابہ کا ہاتھ بھی اللہ کا ہاتھ ہوا، کہنے لگے کہ کیا قرآن میں یہ آیت ہے؟ میں نے کہا ہاں کہنے لگے کہاں ؟میں نے کہا اسی آیت سے پہلے دیکھ لو، بس خاموش ہوگئے اور کچھ جواب نہیں بن پڑا۔اذا فات الشرط فات المشروط فرمایا اذا وُجِدَالشّرطُ وُجِدَ المشروط (یعنی جب شرط پائی جائے گی تو مشروط بھی پایاجائے گا) یہ قاعدہ تو صحیح ہے، اس میں تخلّف نہ ہوگا لیکن اذا فات الشرط فات المشروط یہ ضروری نہیں ہے، اس میں تخلف بھی ہوسکتا ہے، فقہاء جو فرماتے ہیں کہ مفہوم مخالف حجت نہیں ہے، اس کا یہی مطلب ہے۔بڑوں کی باتیں بعد میں یاد آتی ہیں فرمایامولاناامیر احمد صاحبؒ ہم لوگوں کو پڑھایا کرتے تھے، اور اس طرح کے جملے کثرت سے استعمال کرتے تھے، المقول غیر مدفوع، والمدفوع غیر مقول، المثبت غیر منفی، والمنفی غیر مثبت‘‘یہ جملے سب انہیں سے سنے ہوئے اب تک کا ن میں پڑے ہیں ، بڑوں کی باتیں اور ان کے جملے بعد میں یا د آتے ہیں ، ابھی تو تم لوگ پڑھ رہے ہو، بعد میں تم کو بھی یہ باتیں یاد آئیں گی لیکن اگر پڑھو