مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
ظرف لوگ اس طر ح نہیں کہا کرتے کہ بدبو آرہی ہے، برداشت کرتے ہیں یا پھر اشارہ کنایہ میں کہتے ہیں ، سبق ختم ہونے کے بعد اس طالب علم نے حضرت شاہ صاحب کی خدمت حاضر ہوکر معذرت کی اور تنہائی میں عرض کیا کہ حضرت ایسا قصہ پیش آیا تھا جلد ی میں میں نے کپڑے دھوئے اس کی وجہ سے بدبورہ گئی ہو، حضرت کو میری وجہ سے تکلیف ہوئی معاف فرمائیں ، شاہ صاحبؒ نے فرمایا بخدا واقعی مجھ کو خوشبو آرہی تھی، میں نے ایسی خوشبو کبھی نہیں سونگھی، تم نے گناہ سے بچنے اور اللہ کو راضی کرنے کے لئے اپنے جسم کو بدبودار کیا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کے عوض میں ہمیشہ کے لئے تمہارے جسم کو معطر اور خوشبودار بنادیا، چنانچہ لکھا ہے کہ ہمیشہ ان کے جسم سے خوشبو آیا کرتی تھی۔جو حرام سے بچتا ہے اللہ اس کے لئے حلال کے دروازے کھولتا ہے فرمایاکوئی حرام کاموں سے بچ کر تو دیکھے، اللہ تعالیٰ اس کے لئے حلال دروازے کس طرح کھولتاہے، اللہ تعالیٰ تو دل کے حال کو جانتا ہے، ایک ایسا شخص اور ایسا طالب علم جس کے پاس صابن نہ ہو اس لئے بغیر صابن کے کپڑے دھوتا ہو لیکن کسی دوسرے کا صابن نہیں چھوتا۔ ایک شخص ننگے پائوں چلتا پھرتا ہے، ننگے پائوں استنجاء کرلیتا ہے لیکن کیا مجال ہے کہ کبھی کسی دوسرے کا چپل جوتہ بغیر پوچھے استعمال کرلے، ایک شخص کے پاس پورے کپڑے پہننے کو نہیں ہے، ننگے بدن پھر رہاہے لیکن کسی کی چوری کرکے کپڑے نہیں پہنتا، بھوک کے مارے بے چین ہے لیکن کسی کا کھانا بلااجازت چوری کرکے، خیانت کرکے نہیں کھاتا، کیا ایسے شخص پر لوگوں کو رحم نہیں آئے گا؟ کیا ایسے شخص کے لئے اللہ تعالیٰ دروازے نہیں کھولے گا؟ لیکن یہاں تو پہلے ہی سے نیت خراب ہوتی ہے، اسی لئے برکت نہیں ہوتی اور خیر اٹھتی جارہی ہے۔