مجالس صدیق جلد 1 |
§فادات ۔ |
|
لگی ہوتی ہے، مال کی حرص میں وہ سب کچھ بھول جاتا ہے کھانا پِینا تک بھول جاتا ہے، لیکن علم کا حریص سب کچھ یاد رکھتا ہے بس علم ہی کو نہیں یاد رکھتا۔ لیکن جس زمانہ میں واقعی علم کے حریص ہوا کرتے تھے ان کا بھی حال یہی ہوتا تھا کہ تھکنا جانتے ہی نہ تھے، چاہے جتنی مصیبتیں برداشت کرنی پڑیں وہ سب ان کے لئے آسان تھا بس ایک ہی دھن لگی رہتی تھی کہ علم آجائے، وطن سے آتے تو برسوں بعد واپس جاتے، جنگل کے پتے کھا کھاکر روٹی کے سوکھے ٹکڑے پانی میں بھگو کر، مولی کے پتے کھاکر گذر کرتے ، اور علم دین حاصل کرتے تھے، ایسا بھی ہواہے کہ کچھ نہیں ہے تو طباخ کے پاس گئے اور جاکر صرف روٹی کی خوشبو سونگھ لیا کرتے تھے ہزاروں واقعات اس طرح کے ہیں ، نہ رہنے کا ٹھکانا نہ کھانے کا انتظام جہاں جگہ مل گئی وہیں قیام کرلیا۔ اس طرح مصیبتوں سے علم حاصل کیا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے کتنا فائدہ پہونچایا ہے، اسّی اسّی جلدیں لکھ کر چلے گئے جن کا پڑھنا بھی دشوار ہے۔ لیکن آج علم حاصل کرنے والوں کو اتنی آسانیاں ہوگئی ہیں کہ اتنی کبھی نہیں ہوئیں ، آسائش وراحت کے سارے اسباب مہیا ہیں اور آسائشیں بڑھتی ہی جارہی ہیں لیکن بجائے ترقی کے علم میں اتنا ہی زوال آتا جارہا ہے۔اہل مدرسہ کی ذمہ داری (اے عزیز طلباء!) اللہ نے تم کو یہاں بھیجا ہے یہاں رہنا اس نے تمہارے لئے مقدر کیا ہے، تمہارے والدین نے تم کو یہاں بھیجا ہے، اور تم خود بھی کچھ سوچ سمجھ کر ہی آئے ہو ایسا نہیں کہ تم کو سیلاب بہالے آیا ہو یا کسی نے تم کو یہاں پھینک دیا ہو، بلکہ کچھ سوچ سمجھ کر تم خود یہاں آئے ہو، اور اللہ نے تم کو اس مدرسہ میں بھیجا ہے۔ مدرسہ کی مثال اسپتال کی سی ہے، جب مریض اسپتال میں بھرتی ہوتا ہے تو کچھ ذمہ داری تو مریض کی ہوتی ہے اور کچھ ذمہ داری عملہ کی ہوتی ہے، اگر مریض اسپتال میں داخل ہوجائے لیکن ڈاکٹر کے بتلائے ہوئے اصول وہدایات کے مطابق عمل نہ کرے بلکہ اپنی