مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے، اس لئے بارہ گھاٹ بنے تاکہ ہر قبیلہ اپنے اپنے گھاٹ پر پانی پئے، ہر خاندان کا انتظام الگ الگ تھا، یہ اس لئے تاکہ باہم لڑائی جھگڑا نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ انتظامی امور میں حتی الامکان ہر چیز علیحدہ علیحدہ ہونی چاہئے، مثلاً کئی بھائی ہیں تو سب ایک ہی گھر میں نہ رہیں ، ممکن ہو تو سب کا مکان علیحدہ علیحدہ کردے، اور اتنی بات کافی نہیں کہ سب کا کمرہ الگ کردیا جائے باقی گھر کا راستہ بیت الخلاء غسل خانہ سب مشترک ہو کیونکہ اس میں بھی جھگڑا ہوتا ہے ممکن ہوتو دروازہ بھی سب کا علیحدہ ہوناچاہئے، کوئی مجبوری ہو تو بات دوسری ہے، باپ کو چاہئے کہ اس کی فکر کرے، اسی طرح مدرسہ کے منتظم ومہتمم کو چاہئے کہ طلبہ کے لئے ایسا انتظام کرے جس سے باہم اختلاف نہ ہو، مثلاً کتابیں تقسیم کرنا ہے تو اگر گنجائش ہوتو ہر لڑکے کو کتاب علیحدہ علیحدہ دے، یہ نہیں کہ ایک ایک کتاب میں پانچ پانچ آدمی مشترک ہوں ، اس میں پریشانی ہوتی ہے، مجبوری ہوتو بات دوسری ہے، انبیاء علیہم السلام لوگوں کے معاملات بھی درست کراتے تھے، جس میں یہ صورتیں بھی شامل ہیں ۔ماں کے بعد خالہ کی اہمیت فرمایا ماں کے بعد جو تعلق اولاد سے خالہ کو ہوتا ہے وہ کسی کو نہیں ہوتا، خالہ اپنے بھانجہ کو بہت چاہتی ہے، میری دو خالہ تھیں ، حقیقی خالہ کوئی نہ تھیں ، لیکن میری والدہ کی حقیقی چچا زاد بہنیں تھیں جو مجھ سے بہت محبت کرتی تھیں ، کافی دور سے سفر کرکے صرف مجھے دیکھنے اور خیریت معلوم کرنے آیا کرتی تھیں ، اور دوچار روز رہ کر چلی جاتی تھیں ، اس وقت میں بالکل بچہ تھا، میری ماں نے مجھے اتنا لاڈ وپیار نہ کیا ہوگا جتنا میری خالہ نے کیا ہوگا، گود میں لے کر ہاتھ پیر سب چوما کرتی تھیں ۔ ایک مرتبہ میں نے ان کو خواب میں بھی دیکھا ہے، دیکھا کہ قیامت آگئی میدان حشر قائم ہے، میری خالہ بھی وہاں موجود ہیں ، میں نے ان سے کہا کہ قیامت آگئی فرمایا کہ اچھا قیامت آگئی، مجھے بھی ساتھ لیتے چلو میں نے کہا آئو چلو میرے ساتھ۔