مجالس صدیق جلد 1 |
§فادات ۔ |
|
کرایہ حساب سے وضع کر لیا جائے۔ آج کل تو لوگوں نے مدارس کو آمدنی کا ذریعہ بنا رکھاہے، جس کو دیکھو چھوٹا سا مدرسہ بنا لیا، خوشنما رسیدیں چھپوالیں ، لمبے لمبے اشتہار چھپوالئے اور چندہ کرنا شروع کردیا، اچھی خاصی آمدنی ہونے لگی، مدرسوں میں رہنا اور ناظم ومہتمم بننا بہت بڑی ذمہ داری کا کام ہے، آسان کام نہیں ہے، یاتو سیدھے جنت میں جائے گا یا سیدھے دوزخ میں جائے گا، اللہ ہی حفاظت فرمائے۔جو تقویٰ اختیار کرنا چاہتا ہے اللہ اس کی مدد فرماتاہے گناہ سے بچنے کی ہزاروں صورتیں ہیں ، لیکن کوئی بچنا تو چاہے، جو بچنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو بچاتا ہے، اور اس کے بچنے کی غیب سے صورتیں پیدا فرمادیتا ہے، وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلَ لَہٗ مَخْرَجاً،کا یہی مطلب ہے کہ جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے نکلنے کی صورت پیدا فرما دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے دل میں خود ایسی صورتوں کا الہام فرماتا ہے جس سے وہ گناہوں سے بچ جاتا ہے، اور اللہ اس کی مدد فرماتا ہے، لیکن یہ سب اس کے لئے ہوتا ہے جو بچنا چاہے۔یوسف علیہ السلام کا قصہ چنانچہ یوسف علیہ السلام کا قصہ مشہور ہے کہ زلیخا عزیز مصر کی بیوی ان پرعاشق ہوگئی اوراس نے اپنے جال میں پھنسانے کے لئے ہر طرح کی تدبیریں کرڈالیں لیکن یوسف علیہ السلام تیار نہیں ہوئے، واقعی بڑی سخت آزمائش تھی، ایسی ویسی عورت ہوتی تو اس سے بچنا آسان ہوتا ہے، کوئی طائفہ فاحشہ، بازاری عورت، باندی وغیرہ، ہو تو ادھر کو ن التفات کرتا ہے لیکن بادشاہ کی بیوی حسن وجمال میں یکتا اور وہ اپنی طرف آمادہ کرے واقعی بڑی سخت آزمائش تھی، اور پھر یہ بھی نہیں کہ دو دن کا یا چند گھنٹوں کا سابقہ