مجالس صدیق جلد 1 |
§فادات ۔ |
|
مدرسہ میں طلبہ تھوڑے ہوں لیکن کام کے ہوں یہ بہتر ہے ہزاروں کی بھیڑ سے فرمایا: ا ٓج کل مدارس میں طلبہ کی بھیڑ کی بھیڑاکٹھا ہوجاتی ہے، نامعلوم کہا ں سے آتے ہیں اور کہاں نکل کر چلے جاتے ہیں ، ہزار میں ایک دو ہوتے ہیں جو کام کے نکلتے ہیں ، اگر تھوڑے ہوں اور کام کے ہوں وہ بہتر ہیں اس بھیڑ سے، پہلے طلبہ تھوڑے ہوتے تھے لیکن کام کے ہوتے تھے، اصل بات یہ ہے کہ اب دین کی اشاعت کی نیت سے علم حاصل ہی نہیں کرتے، کوئی اسکول کالج میں داخلہ لے لیتا ہے، کوئی دوسرے کام میں لگ جاتا ہے، بعد میں یہ کہتے تک سنا گیا ہے کہ عربی مدارس میں رہ کر ہم نے اپنی زندگی خراب کی، وقت ضائع کیا، تعلیم کے زمانہ میں محنت نہیں کرتے بعد میں افسوس کرتے ہیں اور مدرسوں کو بدنام کرتے ہیں ۔یہ ترقی نہیں تنزلّی ہے آج یہ بات دینی مدارس کیلئے بڑے فخر کی بات سمجھی جاتی ہے اور بڑے فخر سے بیان کیاجاتا ہے کہ فلاں مدرسہ کو گورنمنٹ نے تسلیم کرلیا، اس کی حیثیت ہائی اسکول اور بی اے کے برابر ہے، اس پر فخر کیا جا تا ہے حالانکہ یہی ہمارے مدارس کے زوال کا سبب ہے، طلبہ بھی اسی نیت سے علم دین حاصل کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے جس نے علم دین کو دنیا کے لئے حاصل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا۔عادت ایسے خراب ہوتی ہے صاحب ملفوظ کا واقعہ فرمایا چھوٹی چھوٹی اور معمولی معمولی باتوں ہی سے عادت خراب ہوتی ہے، پہلے