مجالس صدیق جلد 1 |
§فادات ۔ |
|
بعض بزرگوں کے قلت طعام کا حال فرمایا حضرت شاہ عبدالرحیم صاحبؒ پورے رمضان بھر مغرب وعشاء کے درمیان صرف دوفنجان چائے پی لیتے تھے، اور بس اس کے علاوہ کچھ نہ کھاتے پیتے تھے، حضرت شیخ الحدیثؒ نور اللہ مرقدہ نے ایک مرتبہ پورا رمضان ایسا گذارا ہے کہ صرف ایک پائو دھی سحری میں تناول فرما لیتے تھے اس کے علاوہ کچھ نہ استعمال کرتے، ایک بزرگ کی بابت کتابوں میں لکھا ہے کہ وہ صرف ۴۰ دن میں ایک بادام کھاتے تھے۔ راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ خود ہمارے حضرت اقدس کا بھی مزاج اسی نوع کا ہے کھانا بہت کم کھاتے ہیں ، مغرب میں افطار اوربعد عشاء مختصر سا کھانا تناول فرماتے ہیں اس کے علاوہ کچھ نہیں کھاتے پیتے ، اتباع سنت کی نیت سے سحری میں ایک دو گھونٹ پانی پی لیتے ہیں ، پندرہ سال سے تو احقر نے حضرت کا یہ معمول خود دیکھا ، اور ایک مرتبہ حضرت نے خود بھی فرمایا کہ پہلے میرا بھی معمول تھا کہ سحری نہیں کھاتا تھا البتہ اتباع سنت کی نیت سے کسی چیز کے ایک دو لقمے کھالیتا اور پانی پی لیتا تھا۔ اور سفر میں تو بسا اوقات تین تین روز ہوجاتے ہیں اورکھانا نصیب نہیں ہوتا وجہ اس کی یہ ہوتی ہے کہ سب کے سامنے حالت سفر میں کھانا کھاتے ہوئے شرم معلوم ہوتی ہے اور بسااوقات کھانا کھلانے والے اتنی کثرت سے ہوتے ہیں کہ ایک کو چھوڑ کر دوسرے کا کھائیں تو دوسرے کو احساس ہونے لگتا ہے، نیز کھانے میں وقت بہت خرچ ہوتا ہے اہتمام وانتظام اور انتظارمیں بسا اوقات دو دو گھنٹے خرچ ہوجاتے ہیں اسی لئے حضرت کا معمول ہے کہ تقریر کے بعد فوراً واپسی فرماتے ہیں اور مدرسہ میں آنے کے بعد سب سے پہلا کام طلبہ کو سبق پڑھانا اور آنے والے مہمانوں کا کام کرنا، اس کے بعد کہیں کھانے کا نمبر آتا ہے، اور کبھی خاص مہمان آجانے پر وہ کھانا بھی مہمانوں کو کھلادیتے ہیں اور خود بھوکے رہتے ہیں ،یہ حضرت ؒکااکثر معمول ہے۔