مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
بسم اللہ الرحمن الرحیمعرض مرتب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ’’انّ العلماء ورثۃ الانبیاء‘‘ کہ علماء انبیاء کے وارث اور جانشین ہیں ، انبیاء کے وارث اور جانشین ہونے کا مطلب یہ ہے کہ زندگی کے ہر شعبہ میں دینی نقطہ نظر سے وہ امت کی پوری رہنمائی کرتے ہیں ، علمی میدان ہو یا عملی، علماء ربّانیین کا طرز عمل اور ان کی ہدایات امت کے لئے اسوۃ اور لائحۂ عمل کا درجہ رکھتی ہیں ، اسی وجہ سے ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاعلماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل،میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کے مثل ہیں ، نیز ایک حدیث پاک میں آپ نے امت کو حکم دیا ’’اَکْرِمُواالْعُلماء‘‘ علماء کا اکرام کرو، ایک حدیث پاک میں یہاں تک فرمایا:من لم یبُجِّل عالمینا فلَیس منّا، جو علماء کا اکرام نہ کرے وہ ہمارا آدمی نہیں ،ہمارے طریقہ پر نہیں ، ہم اس سے بیزار ہیں ، ایک حدیث پاک میں یہاں تک فرمادیا کہ اللہ فرماتا ہے کہ جو میرے ولی کو ستائے اس کے لئے میری طرف سے اعلان جنگ ہے۔ ان احادیث کی روشنی میں فقہاء ومحدّثین نے علماء ربّانین اور مشائخ کے بہت سے حقوق بیان فرمائے ہیں چنانچہ دینی کاموں میں ان کی نصرت وحمایت اور اعانت کرنے کو حسب استطاعت ضروری قرار دیا ہے، ضرورت پڑنے پر حسب حیثیت اکرام کے ساتھ ان کی مالی خدمت کرنے کو بھی ان کے حقوق میں بیان فرمایا ہے، لیکن یہ سارے حقوق