مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
ہمارے اکابر کا تقویٰ واحتیاط حـضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ آپ بیتی میں تحریر فرماتے ہیں کہ مظاہر علوم (سہارنپور) کے سالانہ جلسہ میں مدرسین اورملازمین میں سے کبھی کسی نے جلسہ کا نہ کھانا کھایا نہ چائے یا پان کا استعمال کیا ہر شخص اپنا اپنا کھانا کھاتا تھا۔مولانا عنایت الٰہی صاحبؒ کا تقویٰ مولانا عنایت الٰہی صاحبؒ مہتمم مدرسہ جلسہ کے زمانہ میں دو شب وروز مدرسہ کے اندر رہے اور ظہر کے وقت یا رات کے بارہ بجے اپنے دفتر کے کونے میں بیٹھ کر گھر کا ٹھنڈا اور معمولی کھانا تنہا کھالیتے تھے۔حضرت مولانا ظہور الحق صاحب ؒکا تقویٰ فرمایا سہارنپورمیں میرے ایک استاد مولاناظہورالحق صاحب تھے، ان کے تقوے کا یہ عالم تھا کہ مدرسہ کا کھانا بھی نہ چکھتے تھے، اگرکبھی ضرورت بھی پیش آتی تو خود نہیں دوسروں سے کہتے تھے کہ ذرا اس کا نمک چکھو، خود مجھ سے کئی بار کہا صدیق، صدّیق (بہت جلدی بولا کرتے تھے) زبان میں کچھ لکنت سی تھی، فرماتے تھے صدیق صدیق ذرا اس کا نمک چکھو، مدرسہ کی چیزوں کا بہت خیال رکھتے تھے، خود نہیں استعمال کرتے تھے، اور اب تو مدرسہ کی چیزوں کو مال غنیمت سمجھتے ہیں ۔ مولانا ظہور الحق صاحبؒ جلسہ کے موقع پر مطبخ کے منتظم مقررہوئے تھے، اور چوبیس گھنٹہ مطبخ کے اندر رہتے تھے، لیکن سالن چاول وغیرہ کا نمک کسی طالب علم سے چکھواتے تھے خود نہیں چکھتے تھے، جب وقت مل جاتا گھر جاکر کھانا کھا آتے۔ ’’اس ناکار ہ نے بھی اپنی طالب علمی کے زمانے میں اساتذہ کو ایسا ہی دیکھا ہے، حضرت مولانا ظہورالحق صاحبؒ نے مجھ سے ایک مرتبہ فرمایا کہ سالن کا نمک چکھ