مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
ششماہی امتحان کے بعد چھٹی کا ماحول نہ بنائیے ششماہی امتحان کے بعد طلبۃ میں عام رجحان چھٹی منانے اور گھر جانے کا ہوتا ہے، امتحان ختم ہونے میں صرف ایک روز باقی تھا، حضرت نے فجر کی نماز کے بعد حکم دیا کہ پنکھے سب بند کردو تاکہ آواز صاف سنائی دے، اس کے بعد طلباء سے مخاطب ہوکر کھڑے کھڑے ارشاد فرمایا،امتحان توکل ختم ہوجائے گا لیکن چھٹی نہ ہوگی، نہ ہم نے آج تک ششماہی امتحان بعد چھٹی دیکھی نہ ہمارے زمانہ میں ہوتی تھی، اور نہ ہم اس کو پسند کرتے ہیں ، امتحان بعد اگر چھٹی کامعمول ہوجائے تو غور کرنے کی بات ہے کہ پندرہ بیس دن تو امتحان سے پہلے ناغہ ہوتا ہے پھر یہ ناغہ اور ہو، ہم تو اس کو بھی پسند نہیں کرتے کہ امتحان کے لئے سبق بندکیا جائے نہ ہمارے زمانہ میں سبق بند ہوتا تھا، لیکن خیر سلسلہ چل پڑا ہے لڑکے محنت کرتے ہیں یادکرتے ہیں ، ٹھیک ہے چند روز کے لئے سبق بند ہوجائے لیکن امتحان کے بعد چھٹی کے کیا معنی، پندرہ بیس دن کا وہ ناغہ اور ادھر چھٹی ہوجائے تو ایک ماہ کا یہ نقصان ہوگا اس لئے چھٹی کاتو کوئی نام نہ لے۔ خبردار! میرے پاس کوئی چھٹی کی سفارش لے کر نہ آئے، میں پہلے سے کہے دے رہاہوں ، کل امتحان ختم ہوگیا پرسوں ہی سے انشاء اللہ اسباق شروع ہوجائیں گے، ایک دن کا بھی اگر ناغہ ہوتا ہے تو اس کی بے برکتی ہوتی ہے، طبیعت میں اضمحلال اور پژمردگی چھاجاتی ہے، کتاب سے مناسبت بھی تو رفتہ رفتہ ہی قائم ہوتی ہے، دوچار دن تو یوں ہی گذرجاتے ہیں ، چھٹی کرنے سے اور زیادہ نقصان ہوگا، درجہ حفظ کے جن لڑکوں کا امتحان ہوگیا ہے وہ کل ہی سے درجہ میں جاکر پڑھناشروع کردیں ، سبق نہ سنائیں سہی لیکن درجوں میں جانا اور پڑھنا شروع کردیں ، سبق کا پارہ یادکریں ، اور تھوڑا تھوڑا دو دو چار چار سطریں سبق بھی یاد کرتے رہیں ، استاد اگر نہ بھی پڑھانے آئے لیکن تم لوگ پڑھنا شروع کردو، تم لوگ اتنا بھی نہیں چاہتے کہ استاد ایک دن آرام کرلے، امتحان ختم ہوگیا ہے کم از کم ایک دن تو استاد کو آرام کرلینے دو، یہ کیا کہ بغیر گھیرے گھارے پڑھنے ہی نہ جائو، (حضرت نے یہ تدبیر اور حکمت عملی اس لئے اختیار فرمائی تھی کہ طلبۃ میں ٹہلنے