مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
کے قدمچے بالکل صاف ہوتے ہیں ، گندگی سامنے جمع نہیں ہوتی صفائی رہتی ہے، اتنی بدبو بھی نہیں ہوتی اجابت ہوجاتی ہے ، ورنہ بعض طبعتیں تو ایسی ہوتی ہیں کہ گندگی میں ان کو پاخانہ ہوتا بھی نہیں ، حضرت مولانا علی میاں صاحبؒ کا بھی یہی مزاج ہے اسی لئے وہ تکیہ میں جنگل میں پاخانہ کرنے جایا کرتے تھے، ہم لوگ جب تکیہ جاتے تو ہم لوگ بھی جنگل جایا کرتے تھے، گھر میں بیت الخلاء صرف عورتوں کے لئے تھا، مرد سب باہر جاتے تھے، لیکن بعد میں جب مہمانوں کی آمد ورفت شروع ہوگئی تو انتظام کرنا پڑا۔ دوسرے وقت میں احقر نے عرض کیا کہ حضرت آپ نے فرمایا تھا کہ جدید تہذیب میں مجھے دو چیزیں بہت پسند ہیں ایک فلش ، بیت الخلاء دوسرے ہاتھ دھونے کے نل (واشن بیسن) تواس میں کو ن سی خوبی اور اچھائی ہے، حضرت نے فرمایا ہاتھ دھونے کے لئے ہر جگہ طشت کہاں ملتا ہے پھر اس میں بھی کچھ نہ کچھ چھینٹیں پڑہی جاتی ہیں ، بسااوقات ہاتھ طشت میں لگ جاتا ہے ، ایک آدمی دھلانے والا ہو اس میں بڑا تکلف بھی معلوم ہوتا ہے، کبھی جھک کر ہاتھ دھونا پڑتا ہے، دقت ہوتی ہے، اور اس نل (واشن بیسن) میں آسانی سے ہاتھ دُھل جاتے ہیں چھینٹیں نہیں پڑتیں سب پانی نیچے چلاجاتا ہے آسانی سے ہاتھ دُھل جاتے ہیں جھکنا نہیں پڑتا۔گھروں کے دروازہ پر گھنٹی لگانے کی اہمیت وضرورت احقر نے عرض کیا کہ جدید چیزوں میں گھنٹی(بیل) کے منافع اور مصالح حضرت مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے معارف القرآن میں بیان کئے ہیں ، اور اس کو بہت پسند فرمایا ہے، استیذان کا جو شرعی حکم ہے(یعنی یہ کہ اجازت لے کر اندر داخل ہونا) اس پر پوری طرح اس سے عمل ہوجاتا ہے حضرت نے اس کو پسند فرمایا اور فرمایا کہ استیذان کی سنت ادا ہوتی ہے دوسرے اگر کبھی رات کے وقت کسی کو آواز دینا ہو یا جگانا ہو تو محلہ کے دوسرے