مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
فصل سبق پڑھانے کی اہمیت شاہ وصی اللہ صاحب ؒ کی خدمت میں حضرت کی حاضری فرمایا معلوم نہیں بزرگان دین اورمشائخ پڑھنے پڑھانے کا مشغلہ کیوں نہیں رکھتے، حضرت شاہ وصی اللہ صاحبؒ درسی کتابیں مرقاۃ وغیرہ سب پڑھایا کرتے تھے، اور اخیر عمر تک پڑھاتے رہے، ایک مرتبہ میں حاضر ہوا تو مرقاۃ کا سبق پڑھارہے تھے، میں کثرت سے حضرت کے پاس جایا کرتا تھا، اس زمانہ میں باندہ سے الہ آباد ٹرک بہت چلاکرتے تھے، باندہ میں اس وقت غلہ بہت ہوتا تھا، ملک کے مختلف حصوں میں یہاں سے غلہ جاتا تھا، الہ آباد بھی جاتا تھا اس لئے الہ آباد ٹر ک بہت چلتے تھے، منّو بھائی (باندہ کے صاحب ثروت مشہور آدمی) کی بسیں بھی بہت چلتی تھیں ، جس میں میرا کرایہ نہ لگتا تھا اس لئے الہ آباد کثرت سے حاضری ہوتی رہتی تھی، اگر ٹرک سے جاتا تو گھاٹ پر اتر جاتا، پل پر ایک کنارہ پڑا سوتا رہتا اور صبح رکشہ سے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوجاتا، ایک مرتبہ حاضر ہوا تو شاہ وصی اللہ صاحبؒ نے پوچھا کہ اتنی جلدی صبح کیسے آگئے، احقر نے عرض کیا رات ہی آگیا تھا پل پر گھاٹ پر سوتا رہا، حضرت بہت ہنسے اور فرمایا صدّیق کو دیکھو رات میں آیا اور گھاٹ پر وہیں سوتا رہا، مجھ پر بہت شفقت فرماتے تھے، ایک مرتبہ فرمایا تھا صدیق تم واقعی صدّیق ہو، حضرت کے پاس میں حضرت ناظم صاحبؒ (یعنی مولانا اسعد اللہ صاحب جو حضرت کے پیر ومرشدتھے) کے حکم سے گیا تھا، جاکر عرض کیا کہ حضرت ناظم صاحب نے بھیجا ہے کہ الہ آباد قریب ہے وہاں جانا اور کہہ دینا کہ فلاں نے بھیجا ہے، حضرت بہت خوش ہوئے تھے۔