مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
البتہ ایک صورت ہے بننے کی کہ سونا اگر کھوٹا رہ گیا ہو تو اس کو دوبارہ تپایا جائے، جلایا جائے اس پر محنت کی جائے تو پھر اس کا کھوٹ دور ہوسکتا ہے اسی طرح طالب علم اگر فراغت کے بعد جلنے، پسنے اور مجاہدہ کرنے کے لئے تیار ہو تو اس کی بھی اصلاح ہوسکتی ہے، لیکن ایسا بہت مشکل ہے، مدرّس اور ناظم اور شیخ الحدیث بننے کے بعد پھر کہاں چھوٹا بننا آتا ہے، اور پھر کہاں کسی کی جوتی سیدھی کرنے کی توفیق ہوتی ہے، پھر تو اپنا کام خود کرنے میں بھی عار آتی ہے، اس لئے ایسے شخص میں ہمیشہ کھوٹ باقی رہتا ہے،اس کا مرض کبھی ختم ہی نہیں ہوتا، وہ کہیں بھی جائے گا اس کے اندر وہ مرض رہے گا، کسی بزرگ کے پاس جائے گا، خانقاہ میں بھی رہے گا تو بھی اس کا کھوٹ باقی رہے گا کیونکہ بننے کے وقت ہی اس میں کھوٹ باقی رہ گیا تھا، اس لئے سن لو یہ زمانہ ہے بننے کا یا بگڑنے کا، اللہ تعالیٰ نے آج تم لوگوں کو اچھے ماحول اور بننے کی جگہ میں بھیح دیا ہے، یہاں قرآن شریف پڑھنے کا ماحول ہے، دین کی باتیں کہنے سننے اور بری باتوں پر روک ٹوک کرنے کا ماحول ہے، اگر اس ماحول کا شکر اور قدردانی کروگے تو اور ترقی ہوگی،لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ،اگر ناشکری کروگے تو اس کا انجام بہت خراب ہوگا، وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِی لَشَدِیْد،ناشکری کروگے تو میرا عذاب بھی سخت ہے، بس یہی زمانہ ہے بننے کا، انسان کے حالات یکساں نہیں رہتے، کچھ دنوں کے بعد تمہارے حالات کچھ اور ہوں گے، گھر میں تمہارے حالات کچھ اور ہوں گے، بعد میں اگر تم کچھ کرنا بھی چاہوگے تو بہت مشکل ہوگا اس لئے جو کچھ کرنا ہو ابھی کرلو، اپنے کو بنانا ہو تو ابھی بنالو، آج ہی سے اس کی فکر شروع کردو، اللہ ہم سب کو توفیق نصیب فرمائے۔آمیناگر مدرسہ میں رہ کر نہ بنوگے تو کہاں بنو گے طلبہ سے فرمایا:ایمانداری سے بتائو اتنے سال سے تم لوگ مدرسہ میں ہو ایک عمل بھی تمہارے اندر ایسا پایا جاتا ہے جس میں پختگی اور پابندی پائی جاتی ہو؟ کوئی ایک عمل بھی تم بتائو جس کو پابندی سے تم کرتے ہو، مدرسہ میں رہتے ہوئے تم کو اتنے سال ہوگئے اور اب تک ایک عمل میں بھی پختگی نہ آسکی، تکبیر اولیٰ کا اہتمام اب تک تمہارے اندر نہ آیا۔