مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
فصل طلبہ اور چوری چور کو چوری کی سزا مل کررہے گی (مدرسہ کے بعض غریب طلبہ کی چپلیں اور سامان چوری ہوگیا تھا اس موقع پر عشاء کے بعد طلبہ کی مجلس میں ) فرمایا کوئی طالب علم اپنے اندر طالب علمی کے صفات پیدا کرکے تو دیکھے کہ کیا ہوتا ہے، آخر طالب علم ہی کے بارے میں تو آیا ہے کہ فرشتے پر بچھاتے ہیں ، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی ہے، مچھلیاں ان کے لئے دعائیں کرتی ہیں ، لیکن کس کے لئے؟ جس کے اندر طالب علمانہ اوصاف ہوں ، اور آج کل طالب علموں کا یہ حال ہے کہ چپل کی چوری کرتے ہیں ، ناشتہ اور کھانے کی چوری کرتے ہیں ، کیا ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی ہے؟ ایسوں پر تو اللہ کا غضب اور قہر نازل ہوتا ہے، اور وہ یہ نہ سمجھیں کہ کچھ ہوگا نہیں ، یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل ہے، جس ذات نے قارون کو فرعون کو ہامان کو مہلت دی، بڑے بڑے کافروں کو مہلت دی وہ کیا ان کو مہلت نہیں دے سکتا لیکن پھر جب پکڑ ہوگی تو بہت سخت پکڑ ہوگی،اِنّ بَطْشَ رَبِّک لَشَدِید۔ پھر ایسی پکڑہوگی کہ ڈھونڈے دھرتی نہ ملے گی، جہاں جائے گا ذلیل وخوار اور پریشان ہوگا، اور کوئی نہ ہوگا جو اس کو اس پریشانی اور ذلت سے بچا سکے، اندھیر ہے بیچارے غریب طلبہ اور ان کی چیزیں چوری کی جائیں ، اللہ کے یہاں بھی دیر ہے اندھیر نہیں ہے، جب وقت آئے گااور جس وقت پکڑ ہوگی کہیں پناہ کی جگہ نہ ملے گی، کیا طالب علم جس کے لئے فرشتے پر بچھاتے ہیں ایسا ہوتا ہے جو چوری کرتاہو، جس کی زمانہ طالب علمی میں بری عادت پڑگئی، چوری کی عادت ہوگئی تو اب وہ جہاں بھی جائے گا چوری ہی