مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
یہ بھی اسراف ہے، اسی واسطے میں کہا کرتا ہوں کہ ہر کمرہ میں دو بلب ہونا چاہئے ، ایک تیزروشنی کاپڑھنے کے واسطے، جب مطالعہ کرنا ہو اس کو جلالو، اور ایک دھیمی روشنی کا زیرو پاور کا ہونا چاہئے، جب بات چیت کرنا ہو یا اور کوئی کام کرنا ہو اس وقت اس کو جلالیا کرو، باتیں کرتے وقت زیادہ روشنی کی کیا ضرورت ہے مدرسہ میں رہ کر یہی سب بات سیکھنے کی ہیں ، اور مدرسہ میں اسی واسطے رہا جاتا ہے، اب مدرسوں سے یہ سب باتیں اٹھتی جارہی ہیں ، یہ سب حرکتیں امانت اور دیانت کے بھی تو خلاف ہیں ، اگر اپنی ذاتی چیز ہو ، اس کو بھی ضرورت سے زائد نہیں استعمال کر سکتے ورنہ اسراف کا گناہ ہوگا، جب خاص اپنی ذاتی چیز کے بارے میں یہ حکم ہے تو پھر مدرسہ کی چیز تو امانت ہوتی ہے اس میں اور زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے،لیکن اب مدرسو ں میں ان چیزوں کا ذرہ برابر لحاظ نہیں کیا جاتا، یہ سب چیزیں اٹھتی جارہی ہیں اسی وجہ سے مدارس سے خیر وبرکت اٹھتی جارہی ہے، بڑے بڑے لوگوں میں یہ باتیں نہیں ، امانت نہیں ، دیانت نہیں ، تقویٰ نہیں ، اللہ کے بندو! امانت سیکھو، دیانت سیکھو، افسوس ان باتوں کو نہ کوئی کہنے والا نہ ٹوکنے والا، آج رات میں نے دیکھا کہ بعض کمروں میں سونے کے وقت بہت تیز بجلی جل رہی تھی اس وقت اس کی کیا ضرورت تھی ، میں کہتا ہوں امانت دیانت سیکھو ورنہ مدرسہ میں رہنے سے کیا فائدہ۔دیانت وامانت نہیں تو کچھ بھی نہیں فرمایا حدیث شریف میں ہے ’’لادین لمن لا امانۃلہ الخ‘‘ یعنی جس کے اندر عہد وپیمان اور دیانت داری نہ ہو وہ مؤمن نہیں ہے، دینداری تقویٰ کا نام ہے، کوئی دیکھے یا نہ دیکھے بس اللہ کا خوف ہونا چاہئے، یہاں مسجد میں طلبہ پنکھا چلاکر سوتے ہیں ، یہ دینداری اور دیانت کے خلاف ہے یا نہیں ؟ ضرور ہے، کوئی دیکھے یا نہ دیکھے اللہ تو دیکھ رہا ہے۔اپنے بڑوں کے سامنے اپنا علم اور قابلیت نہ ظاہر کرنا چاہئے فرمایا اپنے بڑوں اور استادوں کے سامنے کبھی اپنے علم کو ظاہر نہ کرنا چاہئے، ان کے سامنے اپنی بڑائی ظاہر نہ کرے، ان کے سامنے تو چھوٹا ہی بن کر رہے، اگر وہ کوئی