مجالس صدیق جلد 1 |
فادات ۔ |
|
بے تکلف اور سادہ معاشرت حضرت کی خدمت میں کچھ معزز مہمان تشریف لائے تھے، اور صبح جلد ان کو واپس ہونا تھا اگر ناشتہ کا انتظام کیا جاتا تو دیر ہوجاتی اور الہ آباد جانے کے لئے صبح کے وقت ہی کی بسیں بہت اچھی اور مناسب تھیں ، اس کے بعد کی بسوں میں زحمت تھی، حضرت نے فرمایا کہ بہتر یہی ہے کہ ساڑھے چھ والی بس مل جائے ورنہ بعد کی بسیں بہت وقت لگاتی ہیں ، جگہ جگہ رکتی ہیں ، بڑی پریشانی ہوتی ہے، حضرت نے فرمایا ناشتہ کا انتظام کرنے میں دیر لگے لگی جو باسی رکھا ہے یہی کرلیجئے، میں تازہ ناشتہ پکوارہا تھا لیکن اس کے چکر میں بس چھوٹ جائے گی، حضرت نے سیب، برفی اور شام کی باسی روٹی اور شام کا باسی جما ہوا سالن سامنے رکھ دیا اور فرمایا جلدی ناشتہ کر لیجئے، احقر نے عرض کیا کہ روٹی اور گوشت بہت جلد گرم کر کے لاتا ہوں حضرت نے فرمایا نہیں ، چھوڑو، اس چکر میں نہ پڑو، بس چھوٹ جائے گی، چنانچہ وہی باسی روٹی اور شام کا جماہوا باسی سالن کھلایا اور مہمانوں نے بڑی رغبت سے کھایا، حضرت نے ان مہمانوں کو ۱۵؍ روپئے راستہ میں ناشتہ کرنے کے لئے دیئے۔ اور انہیں مہمانوں سے حضرت نے مختصر وقت میں ایک واقعہ اختصار سے بیا ن فرمایا، کہ مولانا مظفر حسین صاحب کاندھلویؒ ایک جگہ تشریف لے جارہے تھے، مولانا رشید احمد صاحبؒ کے یہاں پہنچے اور فرمایا کہ مولوی رشید بھوک لگی ہے کچھ کھانا ہے؟ اور مجھے جلدی بھی بہت ہے آگے جانا ہے، حضرت گنگوہیؒ نے فرمایا جی حضرت کھانا ہے، جلدی سے تازہ بنوادوں یا شام کا بچا ہوا لے آئوں ؛ مولانا مظفر حسین صاحبؒ نے فرمایا کہ شام کا بچاہوا ہی لے آئو مولانا گئے اور شام کی بچی ہوئی روٹی اور ماش کی دال گاڑھی گاڑھی لے آئے اور کہا کہ شام کا بچا ہوا تو یہی ہے، مولانا مظفر حسین صاحب نے روٹی لی اور فرمایا کہ یہاں کھانے میں دیر لگے گی راستہ میں بعد میں کھا لوں گا اور روٹی میں دال رکھ کر تشریف لے گئے۔