مجالس صدیق جلد 1 |
§فادات ۔ |
|
باب ۶ عید میلاد النبی کے نام پر جلسہ جلوس اور سجاوٹ باندہ شہر سے ایک معزز مہمان جو باندہ ہی کے باشندے اور ذی اثر عمر رسیدہ تھے، حضرت کی خدمت میں تشریف لائے، حضرت نے ان سے ارشاد فرمایا بتائیے آج سے پندرہ سال پہلے یہ جلسہ جلوس اور سجاوٹ کا کہیں وجود تھا؟ اس کا نام ونشان بھی نہ تھا، اور جب سے مسلمانوں نے اس کو شروع کیا دیکھ لو اس وقت سے کیا حالت ہورہی ہے، کتنے برے نتائج سامنے آرہے ہیں ۔ آج سے کئی سال پہلے جب مسلمان اس موقع پر جلسہ جلوس کا اہتمام نہ کرتے تھے، غیر مسلم بھی اپنے تہوار ہولی، دسہرے کے موقع پرایسا اہتمام نہ کرتے تھے، ان کے تمام تہوار دسہرہ، ہولی سب ہوجاتے تھے اورکچھ نہ ہوتا تھا، پتہ بھی نہیں چلتا تھا نہ جلوس نہ جلسہ، مسلمانوں نے یہ سب حرکتیں شروع کیں تو انہوں نے بھی شروع کردیں اب دیکھ لو کیا ہورہا ہے، صرف باندہ میں اس مرتبہ انہوں نے جلوس نکال کر ستر۷۰ سے زیادہ مورتیاں رکھی ہیں ، ورنہ اس سے پہلے تو جلوس ہی نہ نکالتے تھے، آسانی اور خاموشی سے اپنے تہوار منالیتے تھے، یہ سب حرکتیں نہ کرتے تھے، یہ سب کچھ انہوں نے مسلمانوں کی حرکتوں کی وجہ سے کیا ہے۔ مسلمانوں کی سمجھ میں نہیں آتا ان کی عقلوں میں پتھر پڑے ہیں ، انجام کو نہیں سوچتے، دین کے نام پر لاکھوں کروڑوں روپئے برباد کئے جاتے ہیں ، سڑکوں کے سجانے، گیٹ بنانے اور روشنی کرنے، کھیل تماشہ میں لاکھوں روپیہ برباد کیا جاتا ہے، کوئی ان سے پوچھے کہ کیا اسی کا نام ہے دین، کیا ان ہی سب باتوں کی تمہارے پیغمبر نے تم کو تعلیم دی ہے، کھیل کود، تماشہ اور ریاکاری سے دین کا کیا تعلق، یہ کافروں کے بارے میں کہا گیا ہے’’اَلّذِینَ اتَّخَذُوْا دِیْنَہُمْ لَہَواً وَلَعِباً‘‘کہ انہوں نے دین کو لہو ولعب اور تماشہ کی چیز بنارکھا ہے، یہ تو غیروں کے کام ہیں دین تو یہ ہے کہ اپنے نبی کے